پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) آرڈیننس 2025 منظور کرلیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
پنجاب حکومت نے "پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (ترمیمی) آرڈیننس 2025 اسمبلی سے منظور کروا لیا۔
تفصیلات کے مطابق حکومت نے پنجاب بورڈز آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں اختیارات کی تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے۔ "چیف منسٹر" "گورنمنٹ" کی جگہ بورڈز کا سربراہ و کنٹرولنگ اتھارٹی قرار دیا گیا ہے۔
بل حالیہ اجلاس میں کثرتِ رائے سے منظور کیا گیا، تعلیمی بورڈز کے خالی عہدے نجی شعبے سے بھی پُر کیے جاسکیں گے جبکہ آرڈیننس کے تحت نجی شعبہ بھی اہل قرار ہونگے۔
کنٹرولنگ اتھارٹی کی منظوری سے تعلیمی بورڈز میں تقرری ممکن ہوگی۔ ایکٹ 1976 کی شق 12 میں ترمیم میں "دیگر بورڈ" کے بعد نجی سیکٹر کا ذکر بھی شامل کر دیا گیا۔ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کنٹرولنگ اتھارٹی میں شامل کیا گیا جس کی سربراہ وزیراعلی ہونگی۔
آرڈینینس میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکشن 13 میں ترمیم کے تحت "کنٹرولنگ اتھارٹی" کی جگہ "سیکرٹری ٹو گورنمنٹ، ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ" شامل ہے جبکہ سیکشن 14 میں ترمیم کرتے ہوئے بورڈز کے تمام افسران کنٹرولنگ اتھارٹی کی منظوری سے تعینات ہوں گے۔
سیکشن 20 میں ترمیم کے بعد بورڈ کے ملازمین کی کارکردگی اور نظم و ضبط کے نئے اصول شامل کیے گئے۔ ترمیمی آرڈیننس کے تحت خالی آسامیوں پر فوری تقرری کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کنٹرولنگ اتھارٹی
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔