سوڈان،خونریز جنگ، والدین کے سامنے سینکڑوں بچے قتل، اجتماعی قبریں و لاشیں
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
خرطوم(ویب ڈیسک) سوڈان کے شہر الفاشر سے فرار ہونے والے عینی شاہدین نے انکشاف کیا ہے کہ نیم فوجی تنظیم ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) کے جنگجوؤں نے شہر پر قبضے کے دوران بچوں کو والدین کے سامنے قتل کیا، خاندانوں کو الگ کر دیا، اور شہریوں کو محفوظ علاقوں میں جانے سے روک دیا۔بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق الفاشر میں اجتماعی قتل عام، جنسی تشدد، لوٹ مار اور اغوا کے واقعات بدستور جاری ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے بتایا کہ اب تک 65 ہزار سے زائد افراد شہر سے نکل چکے ہیں، لیکن دسیوں ہزار اب بھی محصور ہیں۔
جرمن سفارتکار جوہان ویڈیفل نے موجودہ صورتحال کو “قیامت خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا انسانی بحران بنتا جا رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق جنگجوؤں نے عمر، نسل اور جنس کی بنیاد پر شہریوں کو الگ کیا، کئی افراد کو تاوان کے بدلے حراست میں رکھا گیا۔ رپورٹس کے مطابق صرف پچھلے چند دنوں میں سینکڑوں شہری مارے گئے، جب کہ بعض اندازوں کے مطابق 2 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوا ہے کہ الفاشر میں درجنوں مقامات پر اجتماعی قبریں اور لاشیں دیکھی گئی ہیں۔ ییل یونیورسٹی کے تحقیقاتی ادارے کے مطابق یہ قتل عام اب بھی جاری ہے۔سوڈان میں جاری یہ خانہ جنگی اب ملک کو مشرقی اور مغربی حصوں میں تقسیم کر چکی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق جنگ کے نتیجے میں ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد افراد بے گھر اور دسیوں ہزار ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ خوراک اور ادویات کی شدید قلت نے انسانی المیہ پیدا کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں بارشوں اور سیلاب سے 28 افراد جاں بحق، 29 زخمی
19 جولائی سے خیبرپختونخوا میں ہونے والی شدید بارشوں اور فلیش فلڈ کے نتیجے میں مختلف حادثات میں اب تک 28 افراد جاں بحق جبکہ 29 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں 10 مرد، 3 خواتین اور 15 بچے شامل ہیں، جبکہ زخمیوں میں 13 مرد، 9 خواتین اور 7 بچے شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں 19 سے 23 جولائی تک شدید بارشوں کا الرٹ، سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ
زیادہ تر حادثات گھروں کی چھتیں اور دیواریں گرنے یا سیلابی ریلوں میں بہہ جانے کے باعث پیش آئے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق شدید بارشوں اور فیلش فلڈ سے مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا، جن میں 37 گھروں کو جزوی جبکہ 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔
Heavy monsoon rains triggered dangerous flash floods in Khyber District, KP, sweeping away a vehicle. Thanks to the quick action of local residents, the driver was rescued safely.#FlashFlood #Khyber #Pakistan #Monsoon2026 #ClimateAction #StaySafe pic.twitter.com/QoeeY8x1if
— MH ClimateActions (@mhclimateaction) July 23, 2026
یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، اپر و لوئر چترال، اپر و لوئر دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، اپر کوہستان، ٹانک، تورغر، کرم، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان سمیت مختلف اضلاع میں پیش آئے۔
ترجمان کے مطابق پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ ادارے باہمی رابطے میں ہیں اور متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: خیبر پختونخوا میں موسلادھار بارشوں سے تباہی، 12 افراد جاں بحق، 18 زخمی
پی ڈی ایم اے نے متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو متاثرین تک امدادی سامان کی فوری فراہمی اور امدادی کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور موسمی صورتحال کے حوالے سے جاری سرکاری الرٹس اور ایڈوائزریز پر سختی سے عمل کریں۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق ادارے کا ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے۔ عوام کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع، موسمی صورتحال سے آگاہی یا دیگر معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کر سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ایمرجنسی آپریشن سینٹر بارش پی ڈی ایم اے حساس خیبر پختونخوا ریسکیو 1122 سیاحتی مقامات سیلاب سیلابی ریلوں فعال فیلش فلڈ موسمی صورتحال