مسلم لیگ ن کا سینیٹ ضمنی انتخاب کیلیے عابد شیرعلی کو ٹکٹ دینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: مسلم لیگ (ن) نے سینیٹ کے ضمنی انتخاب میں سابق وفاقی وزیر عابد شیرعلی کو ٹکٹ دینے کا باقاعدہ فیصلہ کر لیا ہے، پارٹی ذرائع کے مطابق ن لیگ کے قائد نواز شریف نے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ منظور کیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ عابد شیرعلی کو پارٹی قیادت کی جانب سے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں اور وہ کل سینیٹ کے ضمنی انتخاب کے لیے اپنے کاغذات الیکشن کمیشن لاہور میں جمع کرائیں گے۔
پارٹی رہنماؤں کے مطابق عابد شیرعلی کا پارلیمانی تجربہ، تنظیمی کردار اور پارٹی سے دیرینہ وابستگی انہیں اس نشست کے لیے مضبوط امیدوار بناتی ہے۔
ن لیگ کے حلقوں میں اس فیصلے کو اہم سیاسی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عابد شیرعلی کی سینیٹ میں شمولیت ایوان بالا میں ن لیگ کی پارلیمانی پوزیشن کو مزید مستحکم کرے گی۔
واضح رہےکہ یہ نشست سینئر رہنما اور معروف کالم نگار عرفان صدیقی کے انتقال کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے بعد ن لیگ نے فوری طور پر موزوں امیدوار کی تلاش شروع کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عابد شیرعلی
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔