شمالی وزیرستان، عیسوٹری کے مدرسے میں دھماکا، 2 بچے شہید، 8 زخمی
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
شمالی وزیرستان (نیوزڈیسک) عیسوٹری میں افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک مدرسے کے اندر دھماکے کے نتیجے میں دو بچے شہید جبکہ آٹھ زخمی ہو گئے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق متاثرہ بچے مدرسے میں کھیل رہے تھے کہ اچانک خوارج کا چھوڑا ہوا بارودی مواد پھٹ گیا، جس کے باعث دھماکا ہوا۔ دھماکے کی آواز سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
زخمی بچوں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق مقامی طبی اداروں سے رابطہ کر کے ہنگامی صورتحال پر بچوں کا علاج کرایا جا رہا ہے ، وار آن ٹیرر کے دوران خیبرپختونخوا میں خوارج نے دہشتگردی پھیلانے اور سیکیورٹی فورسز کا راستہ روکنے کیلئے وسیع پیمانے پر بارودی سرنگیں بچھائیں، ماضی میں عیسوڑی کے نواحی پہاڑ ، خوارج کے مذموم ارادوں کی تکمیل کی کمین گاہ رہے ہیں ۔
خیبرپختونخوا میں کُل 114 مربع کلومیٹر علاقے میں بارودی مواد اور سرنگوں کی نشاندہی کی گئی تھی، پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور انتھک کاوشوں کے باعث اب تک 82 مربع کلومیٹر علاقے کو مکمل طور پر کلیئر کیا جا چکاہے، خیبرپختونخوا میں باقی ماندہ علاقے کی ڈی مائننگ پر شب و روزکام جاری ہے، پاک فوج کی جانب سے علاقوں کو بارودی مائیننگ سے پاک کرنے کا مقصد عوام کو حادثات سے محفوظ رکھنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔