پنجاب: وزیراعلیٰ سپیشل اینیشیٹو برائے کینسر پیشنٹ کارڈ متعارف کرانے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے میں تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے کینسر اور دل کے عارضے میں مبتلا مریضوں کے علاج کیلئے ’وزیراعلیٰ سپیشل اینیشیٹو کارڈ‘ متعارف کرانے کا فیصلہ کر لیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس ہوا جس میں کینسر اور کارڈیک سرجری کے لئے خصوصی کارڈ متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔اس موقع پر سیکرٹری سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن نے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کو تفصیلی بریفنگ دی۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں کینسر اور دل کے عارضہ میں مبتلا افراد کے علاج کا مکمل خرچ حکومت ادا کرے گی، مہنگے علاج کے خوف سے بے فکر امراضِ قلب میں مبتلا ہر مریض سی ایم سپیشل اینیشیٹو کارڈ کے ذریعے 10 لاکھ تک کے علاج کی سہولت حاصل کرے گا۔پہلے مرحلے میں 45 ہزار مریضوں کو نیا سی ایم سپیشل اینیشیٹو کارڈ جاری کیا جائے گا، جس کے بعد یہ مریض مہنگے اور پیچیدہ علاج کے مالی بوجھ سے آزاد ہو جائیں گے، چیف منسٹر کارڈیک سرجری پروگرام کے تحت کارڈ ہولڈرز کی مفت کارڈیک سرجری کی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے سٹروک / فالج کے بروقت علاج کے لئے پروگرام پلان طلب کر لیا۔بریفنگ میں کہا گیا کہ 17 جنوری تک نواز شریف انسٹیٹیوٹ کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ لاہور کے او پی ڈی بلاک کو فعال کر کے ہزاروں مریضوں کی زندگی بچانے کا عزم پورا کیا جائے گا، انسٹیٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈریسرچ کے بورڈ آف گورنر نے پہلے مرحلے میں 219 اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی۔نواز شریف انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سرگودھا میں آئی پی ڈی، ایمرجنسی، پتھالویالوجی اور یڈیالوجی 31 جنوری تک مکمل فنکشنل کر دیئے جائیں گے، بورڈ آف گورنر نے پہلے فیز میں 258 اسامیوں پر بھرتی کی منظوری دی ہے۔اس کے علاوہ لاہور میں جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی 15 فروری سے فنکشنل ہوگا، بورڈ آف گورنر نے جناح انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے لئے 1104 اسامیوں پر بھرتی کی بھی منظوری دے دی۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ تمام منصوبوں کو مقررہ ڈیڈ لائنز کے اندر فعال کیا جائے اور مریضوں کی جانیں بچانے کیلئے کوئی کسر نہ چھوڑی جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سپیشل اینیشیٹو انسٹیٹیوٹ آف مریم نواز نواز شریف
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔