ٹریفک آرڈیننس معطلی کی خبریں بے بنیاد، قانون پر مکمل عمل ہوگا،مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک آرڈیننس پر عمل درآمد روکنے کی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ٹریفک قوانین ہر صورت نافذ رہیں گے اور قانون پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ آرڈیننس معطل کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا۔
اس سے قبل پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے بھی مؤقف اختیار کیا تھا کہ ٹریفک آرڈیننس روکنے سے متعلق کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا، اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر سخت کارروائی جاری رہے گی۔
دوسری جانب وزیرِ ٹرانسپورٹ بلال اکبر خان نے ہڑتالی ٹرانسپورٹرز سے مذاکرات کے بعد اعلان کیا تھا کہ اُن کے مسائل کے حل کے لیے کمیٹیاں بنائی جارہی ہیں اور ’’عارضی‘‘ طور پر ٹریفک آرڈیننس کو معطل کیا جارکھا ہے، جبکہ جرمانوں پر بھی فی الحال عمل نہیں ہوگا۔ ان کے اس اعلان کے بعد متحدہ ٹرانسپورٹ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین عصمت اللہ نیازی نے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔
تاہم مریم نواز اور مریم اورنگزیب کی جانب سے آرڈیننس معطل نہ ہونے کے واضح بیانات کے بعد ٹرانسپورٹرز میں ابہام پیدا ہوگیا ہے، اور چیئرمین ایکشن کمیٹی نے کہا ہے کہ صورتحال واضح نہ ہوئی تو وہ دوبارہ لائحہ عمل طے کریں گے۔
ادھر مِنی مزدا ایسوسی ایشن پاکستان کے صدر شیر علی نے مؤقف اپنایا ہے کہ ٹریفک آرڈیننس کی معطلی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری ہونے تک ہڑتال جاری رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ٹریفک آرڈیننس
پڑھیں:
لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔
سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔
ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔
شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔