WE News:
2026-06-03@01:08:45 GMT

طلاق کے بعد 90 دن تک نکاح برقرار، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

طلاق کے بعد 90 دن تک نکاح برقرار، لاہور ہائیکورٹ کا اہم فیصلہ

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس طارق سلیم شیخ نے طلاق کے 3 دن بعد ازدواجی تعلقات قائم کرنے کے کیس میں شوہر کے خلاف درج زیادتی کا مقدمہ خارج کرتے ہوئے ایک نیا قانونی نکتہ طے کر دیا۔

عدالت نے اپنے تحریری فیصلے میں قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے تحت طلاق 90 دن مکمل ہونے سے قبل قانونی طور پر مؤثر نہیں ہوتی، اس لیے اس مدت کے دوران میاں بیوی کے درمیان ازدواجی تعلقات کو غیر قانونی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عدالتی فیصلے میں واضح کیا گیا کہ طلاق کے بعد 90 روز کے اندر شوہر کو رجوع یعنی طلاق منسوخ کرنے کا قانونی حق حاصل ہوتا ہے، اور اس مدت کے دوران نکاح برقرار تصور کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:

فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 22 اپریل 2024 کو ہوئی۔ بعد ازاں خاتون کو معلوم ہوا کہ شوہر پہلے سے شادی شدہ ہے، جس کے باعث دونوں کے درمیان تنازع پیدا ہو گیا۔

شوہر نے 14 اکتوبر 2024 کو طلاق دی، تاہم خاتون کا مؤقف تھا کہ 17 اکتوبر کو سابق شوہر نے گن پوائنٹ پر زبردستی زیادتی کی۔

خاتون نے رحیم یار خان میں شوہر کے خلاف زیادتی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا۔

مزید پڑھیں:

اس کے برعکس درخواست گزار شوہر نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس کے مطابق 90 دن مکمل ہونے سے قبل طلاق مؤثر نہیں ہوتی۔

درخواست گزار کے مطابق اس نے مقررہ مدت کے اندر چیئرمین یونین کونسل کے روبرو رجوع بھی کر لیا تھا، لہٰذا قانونی طور پر خاتون اس کی بیوی تھی۔

عدالت نے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد قرار دیا کہ ان حقائق سے خاتون نے بھی انکار نہیں کیا، اس لیے قانون کی نظر میں فریقین کا نکاح برقرار رہا۔

مزید پڑھیں:

عدالت نے مزید کہا کہ قانون گناہ اور جرم میں فرق کرتا ہے۔ موجودہ کیس میں اگرچہ درخواست گزار کے طرزِ عمل کو غیر اخلاقی قرار دیا جا سکتا ہے، تاہم صرف اسی بنیاد پر زیادتی کی دفعات لاگو نہیں کی جا سکتیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ازدواجی تعلقات جسٹس طارق سلیم شیخ رحیم یار خان لاہور ہائیکورٹ مسلم فیملی لاز آرڈیننس یونین کونسل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ازدواجی تعلقات جسٹس طارق سلیم شیخ رحیم یار خان لاہور ہائیکورٹ مسلم فیملی لاز آرڈیننس یونین کونسل

پڑھیں:

لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی

لاہور میں نجی کوریئر کمپنی کی وین کے ڈرائیور سے بدتمیزی کرنے پر ٹریفک وارڈن کو معطل کر دیا گیا۔

سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے واقعے کی تحقیقات کے لیے ایس پی صدر کو انکوائری کا حکم دے دیا۔

ٹریفک پولیس افسر کا کہنا تھا کہ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مزید کارروائی ہوگی، شہریوں سے حسنِ سلوک پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

سی ٹی او لاہور نے ٹریفک پولیس میں نظم و ضبط اور عوامی احترام اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختیارات کے ناجائز استعمال کی اجازت نہیں دی جائے گی، انکوائری مکمل ہونے پر حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

شہری کے مطابق ٹریفک وارڈن نے رکنے کا اشارہ کیا لیکن اشارہ نظر نہیں آیا، تاہم آگے جا کر رکا جس پر ٹریفک وارڈن نے گاڑی کے اندر سوار ہو کر تشدد کا نشانہ بنایا اور گالم گلوچ کی۔ موقع پر وارڈن نے آن لائن چالان بھی جمع کروایا۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور