ترکیہ کے تعاون سے ہری پور میں 41 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی، ہر جوڑے کو 200 ڈالر سلامی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
ہری پور میں برادر اسلامی ملک ترکیہ کے تعاون سے ایک فلاحی ادارے کی جانب سے 41 مستحق جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی۔ تقریب میں وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف، ترک فلاحی تنظیم کے وائس چیئرمین اور دیگر عہدیداران نے شرکت کی۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے نوبیاہتا جوڑوں کا نکاح پڑھایا اور ہر دلہن کو ضروریات زندگی پر مشتمل جہیز فراہم کیا گیا۔ 41 جوڑوں کو مجموعی طور پر 4 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے برائیڈل گفٹس دیے گئے، جبکہ ترکیہ کے مہمانوں کی جانب سے ہر جوڑے کو 200 ڈالر سلامی بھی دی گئی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سردار محمد یوسف نے ترکیہ کی جانب سے اجتماعی شادیوں کے اہتمام کو قابل تحسین قرار دیا اور حکومت پاکستان اور وزیر اعظم شہباز شریف کی طرف سے نوبیاہتا جوڑوں اور ان کے اہلخانہ کو مبارکباد پیش کی۔
فلاحی ادارے کے چیئرمین ندیم احمد خان نے بتایا کہ گزشتہ 25 برس سے یہ ادارہ مستحق اور یتیم بچیوں کی باعزت رخصتی کا اہتمام کر رہا ہے اور اب تک 456 بچیوں کی شادی کروائی جاچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس موقع پر وہ تمام سہولیات فراہم کی جاتی ہیں جو والدین اپنی اولاد کی شادی پر مہیا کرتے ہیں، تاکہ ہر دلہن کا رخصتی کا لمحہ یادگار اور باعزت ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔