بلاسود قرضہ فراہمی کی تقریب، حافظ نعیم الرحمٰٰن کا خطاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن—فائل فوٹو
امیرِ جماعتِ اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا ہے کہ سرکار کے نظام کو بہترین ہونا چاہیے، مگر ایسا نہیں ہے، ہر شعبہ طبقاتی نظام بنتا جا رہا ہے۔
وزیرِ آباد میں بلاسود قرضہ فراہمی کی تقریب سے خطاب میں حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پاکستان کے 44 فیصد لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی طرح کئی اسکیمیں ہیں، لیکن غربت ختم نہیں ہو رہی ہے، حکومت صرف دکھاوے کے کام کرتی ہے۔
امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ نوجوانوں کے پاس روزگار نہیں ہو گا تو مایوسی ہو گی۔
ان کا کہنا ہے کہ باصلاحیت نوجوانوں کو آئی ٹی کے کورس کرا دیے جائیں تو وہ بہت سے کام کر سکتے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ تھانہ کچہری کا سسٹم، جاگیر دارانہ اور سرمایہ دارانہ نظام ختم ہونا چاہیے، نظام کی تبدیلی کے لیے مؤثر اور طاقت ور آواز اٹھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے، جماعتِ اسلامی آنے والے وقت میں خود کو زیادہ متحرک کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحم ن نے کہا کہ
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔