پنشن ادائیگی، بیورو کریسی، ایگزیکٹو ملکر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں: اسلام آباد ہائیکورٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اسلام آباد (وقائع نگار) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے عدالتی فیصلہ پر عملدرآمد نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ساری بیوروکریسی اور ایگزیکٹیو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں،، جب دل کرتا ہے عدالتی آرڈر مان لیتے ہیں، جب دل کرتا ہے آرڈر نہیں مانتے۔ جمعے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق آڈیٹر جنرل پاکستان بلند اختر رانا کو عدالتی حکم کے باوجود پینشن کی عدم ادائیگی پر سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت ہوئی، عدالتی حکم پر عمل درآمد کی بجائے انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہونے کے باعث وقت مانگنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ انٹرا کورٹ اپیل زیر سماعت ہے تو ہمارا حکم معطل کروالیں ورنہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں، اس ماہ کے آخر میں درخواست گزار کی ماہانہ پینشن کی ادائیگی یقینی بنائیں ورنہ معذرت کے ساتھ توہین عدالت ہوگی۔جسٹس محسن اختر نے کہا کہ اگر عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہوا تو اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان ریونیو اور آڈیٹر جنرل کے اکاؤنٹ منجمد ہونگے، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری پر جن پولیس افسران نے تشدد کیا تھا ان کو سزا ہوئی تھی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کے آئی جی، ایس ایس پی ، ایس پی اور انسپکٹر کو سزا ہوئی تھی، اب وہ افسران سارے ریٹائرڈ ہوگئے وہ سب سزا یافتہ تھے، وہ جیل بھی نہیں گئے، اب وہ سارے پینشن لے رہے ہیں ابھی بھی لے رہے ہیں۔جسٹس محسن اختر کیانی نے کہاکہ ساری بیوروکریسی اور ایگزیکٹیو مل کر عدلیہ سے مذاق کر رہے ہیں، جب دل کرتا ہے عدالتی آرڈر مان لیتے ہیں، جب دل کرتا ہے آرڈر نہیں مانتے، کسی کو خیال نہیں آیا کہ جس نے سابق چیف جسٹس کے ساتھ زیادتی کی اس کو کیوں ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا۔جسٹس محسن اختر نے کہاکہ عدالت کے گزشتہ حکم پر کیوں عمل درآمد نہیں کیا گیا، اس میں کوئی ضد اور انا والی بات نہیں ہے عدالت نے اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروانا ہوتا ہے، عدالتی حکم پر عمل درآمد نہ ہونے سے لوگوں کی نظر میں عدالت کا اعتماد کم ہو جاتا ہے، ہم کوئی سخت آرڈر نہیں کرنا چاہتے ورنہ پھر آپ کو اور ہمیں تکلیف ہوتی ہے۔اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے بتایاکہ فنانس منسٹری کو درخواست گزار کی پینشن پر کوئی اعتراض نہیں، نمائندہ اے جی پی آر نے بتایا کہ ہم نے انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے عدالت وقت دے، اس پر عدالت نے ہدایت کی کہ آپ ہمارا آرڈر انٹرا کورٹ اپیل میں معطل کروالیں ورنہ ہمارے آرڈر پر عمل درآمد کریں۔نمائندہ اے جی پی آر نے استدعا کی کہ عدالت فروری کی تاریخ دے دے تب تک انٹرا کورٹ اپیل کا فیصلہ ہو جائے گا۔عدالت نے حکم دیا کہ سابق آڈیٹر جنرل بلند اختر رانا کو ماہانہ پینشن اس ماہ کے آخر میں ادا کرکے جنوری میں بتائیں کہ کتنے پیسے باقی بنتے ہیں اور کب دیں گے؟ ۔عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 12 جنوری تک ملتوی کردی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: عدالتی حکم پر عمل درا مد انٹرا کورٹ اپیل جب دل کرتا ہے اسلام ا باد عدالت نے ہے عدالت رہے ہیں نے کہا
پڑھیں:
اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔