آپریشن میں زخمی ڈی ایس پی جوڑے کی شادی کی سالگرہ، اسپتال میں کیک کاٹا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
فوٹو: اسکرین گریب
شکارپور آپریشن میں زخمی میاں بیوی ڈی ایس پیز نے شادی کی دوسری سال گرہ سکھر کے نجی اسپتال میں منائی۔
میئر سکھر ارسلان شیخ زخمی ڈی ایس پی جوڑے کی شادی کی سال گرہ کا کیک لے کر عیادت کے لیے اسپتال پہنچے، جوڑے نے اسپتال میں کیک کاٹا، ڈاکٹرز اور اسپتال کا عملہ بھی شریک ہوا۔
وزیر داخلہ سندھ ضیاء لنجار نے بھی سکھر میں زیر علاج زخمی ڈی ایس پیز کی عیادت کی۔
پولیس کے مطابق فائرنگ میں خاتون ڈی ایس پی سٹی پارس بکرانی اور ڈی ایس پی گڑھی یاسین ظہور سومرو بھی زخمی ہوگئے۔
اس موقع پر ضیاء لنجار نے کہا کہ خاتون افسر کی جرات ہمارے لیے قابلِ فخر ہے، ایس ایس پی شکارپور اور پولیس مقابلے میں شامل اہلکاروں کو سول ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔
واضح رہے کہ شکار پور میں ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن میں 9 ڈاکو ہلاک جبکہ ڈی ایس پی میاں بیوی سمیت چار پولیس اہل کار زخمی ہوئے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ڈی ایس پی
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔