اسلام آباد کے ہریوسی اورہروارڈ پر الیکشن لڑیں گے‘ حافظ نعیم الرحمن کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد نئے بلدیاتی نظام کی باتیں تاخیری حربے استعمال کرنے کی کوشش ہے، جماعت اسلامی اسلام آباد کے تمام وارڈز میں اپنے کونسلرز کھڑے کرے گی اور انتخابی میدان میں بھرپور قوت کے ساتھ اترے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، سیکرٹری جنرل زبیر صفدر، نائب امرا اور دیگر عہدیداران بھی شریک تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے باوجود نئے بلدیاتی نظام کی بات چھیڑ کر ایک بار پھر تاخیری حربے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جو واضح طور پر بدنیتی پر مبنی اقدام ہے۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی عوامی دباؤ میں آ کر 15 فروری 2026 کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کر چکا ہے، لیکن حکومت تیسری بار بھی اس انتخابی عمل سے بھاگنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے تمام 1125 وارڈز کی نشستوں پر جماعت اسلامی اپنے کونسلرز کے امیدواران کھڑے کرے گی اور انتخابی میدان میں بھرپور قوت کے ساتھ اترے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق سے مزید محروم نہیں رہ سکتے۔ اس بار جماعت اسلامی حکومت کو بھاگنے نہیں دے گی اور ان کے ہر قدم پر نظر رکھے گی۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ اسلام آباد کے لوگوں کا حق ان کو دینا پڑے گا اور بلدیاتی انتخابات ہر صورت میں مقررہ تاریخ پر کرانے ہوں گے۔ جماعت اسلامی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ شہر اقتدار میں بلدیاتی نظام کو مزید یرغمال نہیں بننے دے گی اور قانونی و عوامی محاذ پر حکومت کا مضبوطی سے مقابلہ کرے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ خود اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کی مہم میں شریک ہوں گے جماعت اسلامی اسلام آباد میں منتخب ہو کر عوام کی خدمت کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن اسلام ا باد میں کہ اسلام ا باد اسلام ا باد کے جماعت اسلامی میں بلدیاتی کہا کہ گی اور کرے گی نے کہا
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔