data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے بعد نئے بلدیاتی نظام کی باتیں تاخیری حربے استعمال کرنے کی کوشش ہے، جماعت اسلامی اسلام آباد کے تمام وارڈز میں اپنے کونسلرز کھڑے کرے گی اور انتخابی میدان میں بھرپور قوت کے ساتھ اترے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجلاس میں امیر جماعت اسلامی اسلام آباد نصراللہ رندھاوا، سیکرٹری جنرل زبیر صفدر، نائب امرا اور دیگر عہدیداران بھی شریک تھے۔حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن کا شیڈول جاری ہونے کے باوجود نئے بلدیاتی نظام کی بات چھیڑ  کر ایک بار پھر تاخیری حربے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے، جو واضح طور پر بدنیتی پر مبنی اقدام ہے۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی عوامی دباؤ میں آ کر 15 فروری 2026 کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا اعلان کر چکا ہے، لیکن حکومت تیسری بار بھی اس انتخابی عمل سے بھاگنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد کے تمام 1125 وارڈز کی نشستوں پر جماعت اسلامی اپنے کونسلرز کے امیدواران کھڑے کرے گی اور انتخابی میدان میں بھرپور قوت کے ساتھ اترے گی۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کے عوام اپنے بنیادی جمہوری حقوق سے مزید محروم نہیں رہ سکتے۔ اس بار جماعت اسلامی حکومت کو بھاگنے نہیں دے گی اور ان کے ہر قدم پر نظر رکھے گی۔ انہوں نے دوٹوک اعلان کیا کہ اسلام آباد کے لوگوں کا حق ان کو دینا پڑے گا اور بلدیاتی انتخابات ہر صورت میں مقررہ تاریخ پر کرانے ہوں گے۔ جماعت اسلامی نے واضح کر دیا ہے کہ وہ شہر اقتدار میں بلدیاتی نظام کو مزید یرغمال نہیں بننے دے گی اور قانونی و عوامی محاذ پر حکومت کا مضبوطی سے مقابلہ کرے گی۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ وہ خود اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کی مہم میں شریک ہوں گے جماعت اسلامی اسلام آباد میں منتخب ہو کر عوام کی خدمت کرے گی۔

 

 

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن اسلام ا باد میں کہ اسلام ا باد اسلام ا باد کے جماعت اسلامی میں بلدیاتی کہا کہ گی اور کرے گی نے کہا

پڑھیں:

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار

پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری

8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔

وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔

مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم

وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔

????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣

Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States

????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n

— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026

آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔

مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے

بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لاہور بلدیاتی الیکشن، 159 یوسیز کا اضافہ، مجموعی تعداد 433 ہوگئی
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست کا اجرا
  • لاہور میں بلدیاتی الیکشن کیلئے حلقہ بندیوں کی ابتدائی فہرست جاری کر دی گئی