ہر سال معروف یا غیر معروف کمپنیوں کی جانب سے درجنوں نئے اینڈرائیڈ فونز متعارف کرائے جاتے ہیں۔

بیشتر کمپنیوں کی جانب سے مختلف قیمتوں والے فونز پیش کیے جاتے ہیں جو فیچرز کے لحاظ سے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔

ان میں سے کچھ فونز آپ کے پرانے فونز جیسے ہی ہوتے ہیں، بس معمولی تبدیلیاں ہوتی ہیں، کچھ زیادہ فیچرز سے لیس ہوتے ہیں اور وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بھی بنتے ہیں۔

مگر جب بھی آپ کسی نئے اسمارٹ فون کو خریدنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اکثر چند غلطیاں کرتے ہیں۔

درحقیقت اگر آپ نیا فون خریدنے والے ہیں تو مختلف چیزوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔

تو ان عام غلطیوں کے بارے میں جانیں جو بیشتر افراد کسی نئے اینڈرائیڈ فون کو خریدتے ہوئے کرتے ہیں۔

اسٹوریج کی ضروریات کے بارے میں نہیں سوچتے
اب ہر بیشتر ایپس کو فون میں کافی اسٹوریج کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ تصاویر یا ویڈیوز بھی زیادہ اسٹور کی جاتی ہیں۔

بیشتر افراد یہ اندازہ لگانے میں ناکام رہتے ہیں کہ ان کے نئے اسمارٹ فون میں انہیں کتنی اسٹوریج کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

ویسے تو اسمارٹ فونز میں اسٹوریج کے مسئلے کا حل مائیکرو ایس ڈی کارڈ کی شکل میں موجود ہے مگر اس پر اضافی خرچہ کرنا پڑتا ہے اور پھر یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ فون میں ایس ڈی کارڈ سپورٹ موجود بھی ہے یا نہیں۔

تو اگر آپ فون خریدنے کے کچھ عرصے بعد اسٹوریج میں کمی سے پریشان نہیں ہونا چاہتے جس کے باعث بار بار ایپس، تصاویر یا ویڈیوز کو ڈیلیٹ کرنا پڑتا ہے، تو بہتر ہے کہ اپنے بجٹ کے مطابق دستیاب بہترین اسٹوریج والے فون کو متنخب کریں۔

اگر ماضی میں بھی آپ کو اسٹوریج مسائل کا سامنا ہوچکا ہے تو اگلی بار فون خریدتے ہوئے اس کا خیال ضرور رکھیں۔

سافٹ وئیر سپورٹ کو نظر انداز کرنا
اینڈرائیڈ فونز میں متعدد فیچرز موجود ہوتے ہیں مگر ایک مسئلہ ضرور موجود ہوتا ہے، ان میں اکثر اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹمز کے نئے ورژنز کو اپ گریڈ کرنا ممکن نہیں ہوتا۔

پرانے اینڈرائیڈ سسٹمز پر کام کرنے والے فونز میں ایپس کے تازہ ترین فیچرز کو استعمال کرنا ممکن نہیں ہوتا جبکہ میل وئیر اور دیگر آن لائن خطرات بھی بڑھتے ہیں۔

تو نئے فون کو خریدتے ہوئے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کمپنی کی جانب سے نئے سافٹ وئیر کو اپ ڈیٹ کرنے کی پالیسی کیا ہے۔

ویسے تو اب کچھ کمپنیوں کی جانب سے 4 سے 7 سال تک سافٹ وئیر اپ ڈیٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا جا رہا ہے مگر متعدد کمپنیوں کی جانب سے محض ایک سے 2 سال تک اپ ڈیٹس کی جاتی ہیں۔

تو ایسا فون خریدنے کو ترجیح دیں جس میں زیادہ طویل وقت تک سافٹ وئیر سپورٹ فراہم کی جائے گی۔

آنکھیں بند کرکے کمپنی کی بتائی گئی پرفارمنس اور معیار پر یقین کرنا
اگر آپ فون کی بتائی گئی خصوصیات کے نمبروں پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرتے ہیں، تو یہ ایک بڑی غلطی ہے۔

مثال کے طور پر ایک 108 میگا پکسل کیمرا ضروری نہیں کہ کسی 48 میگا پکسل یا 12 میگا پکسل سے بہتر تصاویر فراہم کرسکے۔

اسی طرح اگر کسی فون میں 5500 ایم اے ایچ بیٹری موجود ہے تو ضروری نہیں کہ اس کی بیٹری لائف کسی 5000 ایم اے ایچ بیٹری والے فون سے بہتر ہو۔

سافٹ وئیر آپٹمائزیشن اسمارٹ فون کے تمام پہلوؤں کے لیے اہم ہے۔

تو جب بھی نئے اسمارت فون کو خریدنا ہو تو اس کے متعدد ریویوز کو پڑھیں جبکہ اگر کسی دوست یا رشتے دار کے پاس موجود ہو تو اس کی رائے لیں، مگر یہ نہ بتائیں کہ آپ وہ فون خریدنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

اپنی ضروریات کو نظر انداز کرنا
اسمارٹ فونز خریدتے ہوئے کی جانے والی ایک غلطی یہ بھی ہے کہ بیشتر افراد اس پر توجہ مرکوز نہیں کرتے کہ ان کی ضروریات کیا ہیں اور جو مقبول فون ہوتا ہے، اس کی جانب جاتے ہیں چاہے وہ بجٹ سے زیادہ مہنگا ہو۔

آپ کو سب سے پہلے سوچنا ہے کہ آپ کس مقصد کے لیے فون کو استعمال کریں گے، جیسے صرف کالز، ٹیکسٹ، سوشل میڈیا اور اسٹریمنگ ایپس کے لیے چاہیے یا گیمنگ کے لیے لینا چاہتے ہیں؟

اسی طرح کیا آپ اکثر اپنے فون میں دفتری کام کرتے ہیں؟ اسی طرح کے سوالات کے بارے میں سوچ کر نئے فون کا انتخاب کریں، کیونکہ اب کافی سستے اینڈرائیڈ فونز بھی کافی کچھ کرنے کے قابل ہیں۔

ڈسکاؤنٹ یا ڈیل کا انتظار نہ کرنا
کسی نئے اسمارٹ فون کو اسے متعارف کرائے جانے کے چند ہفتوں بعد کسی ڈسکاؤنٹ یا ڈیل کے بغیر خریدنا بھی ایک غلطی ہے۔

بیشتر اینڈرائیڈ فونز کی قیمتوں میں انہیں متعارف کرائے جانے کے چند ہفتوں بعد کمی آجاتی ہے یا ڈسکاؤنٹ کی پیشکش کی جاتی ہے۔

تو بہتر یہ ہے کہ کسی نئے فون کو متعارف کرائے جانے کے بعد فوری طور پر لینے کی بجائے کچھ وقت تک انتظار کریں تاکہ بہتر قیمت میں اسے حاصل کرسکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کمپنیوں کی جانب سے اینڈرائیڈ فونز اینڈرائیڈ فون بیشتر افراد خریدتے ہوئے فون خریدنے اسمارٹ فون سافٹ وئیر والے فون ہوتے ہیں کرتے ہیں فون میں کے لیے فون کو

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی