پاکستان میں غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کیلیے طورخم سرحد کھول دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
پاکستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں کی بے دخلی کے لیے طورخم سرحد کو جزوی طور پر کھول دیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق پاک افغان سرحدی گزرگاہ طورخم کو 20 روز بعد جزوی طور پر کھولا گیا ہے تاکہ پاکستان میں مقیم غیر قانونی افغان شہریوں کی واپسی کا عمل جاری رہ سکے۔
ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر بلال شاہد کے مطابق سرحد صرف افغان پناہ گزینوں کی بے دخلی کے لیے کھولی گئی ہے جب کہ تجارت اور عام آمدورفت تاحکمِ ثانی بند رہے گی۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سیکڑوں افغان شہری طورخم امیگریشن سینٹر پہنچ چکے ہیں، جہاں عملہ دستاویزی کارروائی مکمل کرنے کے بعد انہیں افغانستان جانے کی اجازت دے رہا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں اور پیدل آمدورفت کی مکمل بحالی کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر بلال شاہد نے بتایا کہ 11 اکتوبر کو پاک افغان کشیدگی کے باعث طورخم سرحد مکمل طور پر بند کی گئی تھی، تاہم اب سرحد صرف بے دخلی کے لیے جزوی طور پر بحال کی گئی ہے۔
اُدھر یو این ایچ سی آر کے ترجمان قیصر خان آفریدی کے مطابق 8 اکتوبر تک مجموعی طور پر 6 لاکھ 15 ہزار غیر قانونی افغان شہریوں کو طورخم کے راستے وطن واپس بھیجا جا چکا ہے، جب کہ مزید افراد کی واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل افغان شہریوں کے مطابق بے دخلی
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔