متنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ، اہم شخصیت کا ایمان اور ہادی کی وکالت کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
متنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ، اہم شخصیت کا ایمان اور ہادی کی وکالت کرنے کا فیصلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 4 December, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) ایڈووکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف متنازع ٹویٹس کیس میں نیا موڑ آگیا، اہم شخصیت نے وکالت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکا نے سماعت کے آغاز پر استفسار کیا کہ 342 کے سوالنامہ کا کیا بنا؟ ایڈوکیٹ ہادی علی چٹھہ نے بتایا کہ ہمیں 342 کے بیان کی کاپی نہیں ملی۔ جج افضل مجوکا نے کہا کہ میں 342 کا بیان ٹائپ کرکے آپ کو 10 بجے دوں گا۔
عدالت نے کیس کی سماعت میں 10 بجے تک وقفہ کیا۔ دوبارہ سماعت کا آغاز ہوا تو اسلام آباد بار کے صدر نعیم علی گجر نے وکالت نامہ جمع کرا دیا۔ ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔
صدر بار نعیم گجر نے جج سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ویلکم بیک سر، آپ کا دورہ کیسا رہا؟ سر آپ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہو کر آئے ہیں۔
ایڈوکیٹ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی جانب سے نعیم علی گجر پیش ہوئے۔ ایمان اور ہادی کی جانب سے جرح کا حق بحال کرنے کی درخواست دائر کی گئی۔
وکیل نعیم علی گجر نے کہا کہ ہمیں وقت دے دیں ہم اسں میں معاونت کر دیتے ہیں۔
جج افضل مجوکا نے ریمارکس دیے کہ مشرف کیس میں سپریم کورٹ واضع کر چکی، اگر ملزم بار بار پیش نہیں ہوتا تو عدالت ان کی غیر موجودگی میں ٹرائل آگے بڑھا سکتی ہے۔
ہادی علی چٹھہ نے کہا کہ ہم نے کیس آپ سے ٹرانسفر کرنے کی درخواست بھی دائر کرنی ہے۔
عدالت نے سماعت میں 11 بجے تک کا وقفہ کر دیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم، جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات بے نتیجہ ختم، جنگ بندی برقرار رکھنے پر اتفاق پنجاب میں دھند کا راج برقرار، موٹر وے ایم 5 اوچ شریف سے ظاہر پیر تک بند امریکی صدر کا ہائی اسکلڈ ورکرز کیلئے ویزا شرائط سخت کرنے کا حکم امریکا میں غیرقانونی اسلحہ رکھنے اور حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں پاکستانی نژاد امریکی شہری گرفتار خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا خطرہ موجود ہے، سلمان اکرم راجا پنجاب کی بیورو کریسی میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ ،9اضلاع کے ڈپٹی کمشنرزتبدیل ، تفصیلات سب نیوز پرCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: اور ہادی کیس میں کرنے کا
پڑھیں:
چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
اسلام آباد:حکومت نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید موثر بنانے کے لیے 95.049 ملین روپے (تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے) مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکریٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود اور ماہرین کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ذمے داری ہے اسی مقصد کے تحت یہ گاڑی خریدی جا رہی ہے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ نئی لینڈ کروزر پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم 2ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنھیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی حفاظت کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا خریدنے کے عمل میں ہیں۔
سی پیک سیکریٹریٹ نے موقف اختیار کیا کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث مطلوبہ وقت پر بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی نوبت آ جاتی ہے۔
دستاویزات کے مطابق نجی مارکیٹ سے کرائے پر بلٹ پروف گاڑیاں لینا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) کے رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔
3 ٹویوٹا ڈیلرز نے قیمتیں پیش کیں، جن میں،ٹویوٹا سینٹرل موٹرز: 95.049 ملین روپے،ٹویوٹا پورٹ قاسم: 95.25 ملین روپے،ٹویوٹا سوسائٹی: 95.45 ملین روپے ہے،حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔
سی پیک سیکریٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں تھی، جس پر وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث آرڈر جاری نہ ہو سکا۔
وزارت نے یہ رقم مختلف منصوبوں سے فراہم کرنے کا انتظام کیا، جن میں،سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے 1 کروڑ 88 لاکھ روپیوفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے،مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے 1 کروڑ 10 لاکھ روپے،پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے 1 کروڑ 60 لاکھ روپے ہے ،ان میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص تھے۔