مرکزی مسلم لیگ کے لاہور میں انٹرا پارٹی انتخابات کے تیسرے مرحلے کا کامیاب انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 7th, December 2025 GMT
سٹی 42: مرکزی مسلم لیگ نے لاہور میں انٹرا پارٹی انتخابات کے تیسرے مرحلے کا کامیاب انعقاد کر لیا۔
16 یونین کونسلز میں پولنگ پُرامن، منظم اور شفاف رہی، جہاں مرد و خواتین کیلئے الگ سٹیشن قائم کئے گئے۔ اس مرحلے میں 39 امیدواروں نے حصہ لیا جبکہ 16 صدور منتخب ہوئے۔
انتخابی سرگرمیوں کے دوران پنجاب کے صدر چودھری سرور، صدر وسطی پنجاب چودھری حمیدالحسن گجر، چیف الیکشن کمشنر پارٹی انجینئرحارث ڈار ،صدر لاہور انجینئر عادل خلیق اور جنرل سیکرٹری لاہور ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے مختلف پولنگ کیمپس کا دورہ کیا۔ پولنگ کی نگرانی کیلئے پانچ رکنی کمیٹی بھی قائم کی گئی۔
وزیراعظم کی بحیرہ عرب میں حشیش کی بھاری مقدار کی سمگلنگ روکنے پر پاکستان بحریہ کی پزیرائی
ڈپٹی جنرل سیکرٹری خالد نیک گجر اور ڈاکٹر مزمل اقبال ہاشمی نے حکومت کے نئے بلدیاتی ایکٹ کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایکٹ مقامی نمائندوں سے اختیارات چھین کر افسر شاہی کو بااختیار بنانے کی کوشش ہے، جو عوام دشمن اور غیر جمہوری اقدام ہے۔
پارٹی قیادت نے کارکنان کے جذبے کو سراہتے ہوئے کہا کہ شفاف، جمہوری اور گراس روٹ لیول کا نظام ہی مرکزی مسلم لیگ کی اصل پہچان ہے، اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنا ہمارا بنیادی مشن ہے۔
ژوب؛ مسافر بس اور فیلڈر گاڑی میں تصادم، 5 افراد جاں بحق
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔