صدر ٹرمپ کے خلاف اچانک زور پکڑنے والی ’نو کنگز‘ تحریک کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
واشنگٹن(انٹرنیشنل ڈیسک)امریکا میں صدر ٹرمپ کے خلاف اچانک اٹھنے والی ”نو کنگز“ احتجاجی تحریک نے دنیا بھر میں توجہ حاصل کی ہے۔ اس تحریک کا مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ امریکا میں جمہوریت ہے، بادشاہت نہیں۔ اور کوئی بھی صدر، چاہے وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، آئین اور عوام سے بالاتر نہیں ہو سکتا۔
تحریک کے شرکا کا ماننا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکی جمہوری اصولوں اور اختیارات کی تقسیم کے نظام کو کمزور کیا ہے۔
مظاہرین کا نعرہ ہے: ”No thrones, No crowns, No kings“ یعنی ”نہ تخت، نہ تاج، نہ بادشاہ!“
مظاہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے فوجی پریڈز، وفاقی فورسز کی بڑی تعیناتی، امیگریشن کے سخت اقدامات، اور عدلیہ یا کانگریس پر دباؤ ڈالنے جیسے اقدامات سے ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ اپنے آپ کو منتخب صدر کے بجائے بادشاہ سمجھ رہے ہوں۔
مظاہروں کا آغاز
نو کنگز تحریک کے تحت امریکی صدر کے خلاف پہلا بڑا مظاہرہ 14 جون 2025 کو ہوا۔ یہ دن خاص طور پر علامتی اہمیت رکھتا تھا، کیونکہ اس دن امریکی فوج کے قیام کی 250ویں سالگرہ منائی جا رہی تھی، اور اسی ہفتے ٹرمپ کی سالگرہ بھی تھی۔
صدر ٹرمپ نے اس دن واشنگٹن ڈی سی میں ایک بڑی فوجی پریڈ رکھی، جسے ناقدین نے ”اقتدار کی نمائش“ قرار دیا۔ اسی موقع پر لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے اور ”No Kings“ کے بینرز اٹھا کر صدر کو یاد دلایا کہ ”امریکا میں بادشاہ نہیں ہوتے، عوام کی حکومت ہوتی ہے“۔
چند ماہ بعد 18 اکتوبر کو تحریک نے دوبارہ زور پکڑا۔ اس روز نیویارک، واشنگٹن، لاس اینجلس، شکاگو، اور بوسٹن سمیت پورے ملک میں دو ہزار سے زائد مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین میں طلبہ، سماجی کارکن، اساتذہ اور عام شہری شامل تھے۔ زیادہ تر مظاہرے پرامن رہے، لیکن بعض مقامات پر پولیس اور فوج کی بھاری نفری تعینات کی گئی۔
مظاہرین کا انوکھا انداز
ان احتجاجوں میں تخلیقی انداز اپنایا گیا۔ لوگ تاج، تخت یا لباسِ شاہی میں ملبوس نظر آئے تاکہ ”بادشاہت“ کے تصور کا مذاق اڑایا جا سکے۔
ٹرمپ کی تصاویر والے پلے کارڈز بنائے گئے جن پر تخت یا تاج کی تصاویر کے ساتھ طنزیہ جملے درج تھے۔
کئی شہروں میں موسیقی، تقاریر اور عوامی مارچ منعقد کیے گئے تاکہ یہ دکھایا جا سکے کہ عوام اب بھی اپنی جمہوریت کے محافظ ہیں۔
مظاہرین کے مطالبات
نو کنگز تحریک کے چند نمایاں مطالبات یہ ہیں:
صدر کے اختیارات کو محدود اور آئینی حدود میں رکھا جائے۔
عدلیہ، میڈیا اور کانگریس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔
شہری آزادیوں، اظہارِ رائے اور احتجاج کے حق کا تحفظ کیا جائے۔
وفاقی فورسز کو شہری معاملات میں استعمال کرنے کی پالیسی بند کی جائے۔
حکومت کو یاد دلایا جائے کہ امریکا ایک جمہوری ریاست ہے، بادشاہت نہیں۔
صدر ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کا ردعمل
صدر ٹرمپ نے مظاہرین پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ”وہ کہتے ہیں میں بادشاہ ہوں۔ میں بادشاہ نہیں ہوں، میں عوام کا نمائندہ ہوں۔“
ریپبلکن رہنماؤں نے بھی ان احتجاجوں کو ”امریکا مخالف“ قرار دینے کی کوشش کی اور کہا کہ یہ تحریک دراصل سیاسی مخالفین کی مہم ہے۔
تحریک کے اثرات
نو کنگز تحریک امریکی تاریخ کے بڑے احتجاجوں میں شمار کی جا رہی ہے۔ اس میں لاکھوں لوگ شریک ہوئے، جو ظاہر کرتا ہے کہ امریکی معاشرہ اقتدار کی غیر معمولی مرکزیت کے خلاف فکرمند ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ احتجاج امریکا کے سیاسی توازن پر گہرے اثرات ڈال سکتا ہے، کیونکہ عوامی دباؤ سے اداروں کو اپنی آزادی منوانے کا حوصلہ ملتا ہے۔
یہ تحریک حکومت کے لیے ایک پیغام بھی ہے کہ طاقت کا غلط استعمال یا اداروں کی کمزوری امریکی عوام قبول نہیں کریں گے۔
”بادشاہ نہیں، عوام ہیں حاکم“
اس تحریک کا بنیادی پیغام نہایت سادہ ہے: امریکا میں کسی کا تاج نہیں، اقتدار عوام کا ہے۔
مظاہرین چاہتے ہیں کہ صدر ٹرمپ سمیت ہر رہنما کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ بادشاہ نہیں، عوام کے خدمت گزار ہیں۔
اسی لیے اسے “نو کنگز احتجاج” کہا جاتا ہے۔ ایک ایسا احتجاج جو امریکا کی جمہوریت کو بادشاہت بننے سے روکنے کی کوشش ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بادشاہ نہیں امریکا میں تحریک کے کے خلاف ٹرمپ کی
پڑھیں:
ٹرمپ کے بدلتے پینترے
امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔
دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔
ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔