Jasarat News:
2026-06-03@04:06:23 GMT

پیپلز پارٹی افغانوں کو آباد کر رہی ہے، عوامی تحریک

اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر)عوامی تحریک کے مرکزی صدر ایڈووکیٹ وسند تھری، مرکزی سینئر نائب صدر نور احمد کاتیار، مرکزی رہنما لال جروار، ایڈووکیٹ اسماعیل خاصخیلی، جام تماچی اور نور نبی پلیجو نے اپنے مشترکہ پریس بیان میں کہا ہے کہ دیگر صوبوں سے بیدخل کیے گئے افغانوں کو بھی سندھ میں آباد کیا جا رہا ہے۔ دادو، نوشہروفیروز اور گھوٹکی سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں ضلعی انتظامیہ اور پیپلز پارٹی کے مقامی وڈیروں کی سرپرستی میں افغانوں کو آباد کیا جا رہا ہے۔کوٹری میں افغانوں نے زمینوں پر قبضے کر کے کالونیاں قائم کر لی ہیں لیکن انتظامیہ ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ خانپور کے میدانی علاقے افغانوں کے حوالے کر دیے گئے ہیں، سندھ کے مزدوروں اور محنت کشوں کو اپنی زمینوں پر گھر بنانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، جب کہ افغانوں اور دیگر غیر ملکیوں کو کراچی، خانپور، جامشورو، حیدرآباد، کوٹری سمیت سندھ کے چھوٹے بڑے شہروں اور دیہاتوں میں خالی زمینوں پر بستیاں بسانے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔خالی زمینوں پر گھر بنانے والے سندھیوں کو‘‘قبضہ گیر’’قرار دے کر ان کو اپنی ہی زمینوں سے بیدخل کیا جا رہا ہے، جبکہ سندھ کی زمینیں افغانوں، ھندستانیوں، برمیوں اور بنگالیوں کے لیے مفت دستیاب ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت افغانوں کی سرپرستی کرتے ہوئے سندھ دشمنی میں تمام حدیں پار کر چکی ہے۔رہنماؤں نے کہا کہ 40 لاکھ سے زیادہ افغانوں کو نادرا نے سندھ کے جعلی شناختی کارڈ جاری کیے ہیں، اور بوگس ڈیجیٹل مردم شماری کے ذریعے افغانوں کو سندھ کا شہری شمار کیا گیا ہے۔ حالانکہ سیکیورٹی ادارے اپنی رپورٹس میں واضح کر چکے ہیں کہ افغان ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہیں۔ اس کے باوجود پیپلز پارٹی حکومت افغانوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے سندھ کا امن و امان تباہ کر رہی ہے۔رہنماؤں نے مزید کہا کہ افغانوں کی واپسی کے حوالے سے وفاقی حکومت کے حالیہ اجلاس میں جعلی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ سندھ کا وزیرِاعلیٰ اجلاس میں سندھ کا مؤقف پیش کرنے کے بجائے خاموش تماشائی بن کر بیٹھا رہا۔ اس نے نہ تو افغانوں کے جعلی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا مطالبہ کیا اور نہ ہی جعلی کارڈ بنانے والے نادرا کے افسران کے خلاف قانونی کارروائی کا۔ یہ بات صاف ظاہر کرتی ہے کہ پیپلز پارٹی حکومت افغانوں کی سہولت کار ہے۔عوامی تحریک کے رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ افغان بستیوں سمیت کراچی ڈویژن میں خالی سرکاری زمینوں پر سندھ کے مزدوروں کے لیے کالونیاں قائم کی جائیں۔ مختلف دیہاتوں سے روزگار کے سلسلے میں کراچی آنے والے سندھی مزدوروں کو کراچی میں پلاٹ دیے جائیں، ان کا باقاعدہ اندراج کیا جائے، اور انہیں تعلیم، صحت سمیت تمام بنیادی انسانی حقوق فراہم کیے جائیں۔مزید یہ کہ لاکھوں افغانوں اور دیگر غیر ملکیوں کو جعلی شناختی کارڈ فراہم کرنے والے نادرا کے اہلکاروں کے خلاف آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت کارروائی کی جائے اور تمام جعلی شناختی کارڈ منسوخ کیے جائیں۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جعلی شناختی کارڈ پیپلز پارٹی افغانوں کو افغانوں کی سندھ کا سندھ کے نے والے کیا جا

پڑھیں:

شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان

ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔

ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو