پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے لیے لوگ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، تاہم اس بات کا فیصلہ مرکزی قیادت کی جانب سے قائم کمیٹی کریگی کہ وہ کن لوگوں کو شامل کرتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے لیے لوگ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، تاہم اس بات کا فیصلہ مرکزی قیادت کی جانب سے قائم کمیٹی کریگی کہ وہ کن لوگوں کو شامل کرتی ہے۔ مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ہم ابھی الیکشن کی طرف نہیں جا رہے ہیں، الیکشن کیلئے ابھی بہت وقت ہے، پارٹی کے وفاقی رہنمائوں کی سربراہی میں بنائی گئی چار رکنی کمیٹی پارٹی میں مقتدر شخصیات کو شامل کرنے کیلئے کام کرے گی، پارٹی میں آنے کیلئے لوگ لائنوں میں بیٹھے ہیں جو لوگ پارٹی میں شامل ہونگے وہ اب کمیٹی کے ممبران سے رابطہ کر کے شامل ہونگے، کوآرڈینیشن کمیٹی پارٹی کو آگے لیکر جانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پاس اختیارات منتقل ہوتے ہیں اس سے قبل وہ حکومت اور ارکان اسمبلی کے اختیارات منجمد کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، اسی لئے معاملہ کورٹ میں گیا ہے، عدالت دیکھے گی کہ چیف الیکشن کمشنر کا ایکٹ قانونی ہے یا غیر قانونی ہے، عدالت یہ بھی دیکھے گی کہ چیف الیکشن کمشنر نے کس قانون اور آئین کے تحت ارکان اسمبلی کے اختیارات منجمد کئے اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر پارٹی میں

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری

الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔

الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔

اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔

کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف