الیکشن شیڈول سے قبل چیف الیکشن کمشنر کے پاس اختیارات منجمد کرنے کا اختیار نہیں، امجد ایڈووکیٹ
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے لیے لوگ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، تاہم اس بات کا فیصلہ مرکزی قیادت کی جانب سے قائم کمیٹی کریگی کہ وہ کن لوگوں کو شامل کرتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پیپلزپارٹی گلگت بلتستان کے صدر امجد حسین ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی میں شامل ہونے کے لیے لوگ لائنوں میں لگے ہوئے ہیں، تاہم اس بات کا فیصلہ مرکزی قیادت کی جانب سے قائم کمیٹی کریگی کہ وہ کن لوگوں کو شامل کرتی ہے۔ مقامی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں ںے کہا کہ ہم ابھی الیکشن کی طرف نہیں جا رہے ہیں، الیکشن کیلئے ابھی بہت وقت ہے، پارٹی کے وفاقی رہنمائوں کی سربراہی میں بنائی گئی چار رکنی کمیٹی پارٹی میں مقتدر شخصیات کو شامل کرنے کیلئے کام کرے گی، پارٹی میں آنے کیلئے لوگ لائنوں میں بیٹھے ہیں جو لوگ پارٹی میں شامل ہونگے وہ اب کمیٹی کے ممبران سے رابطہ کر کے شامل ہونگے، کوآرڈینیشن کمیٹی پارٹی کو آگے لیکر جانے میں مددگار ثابت ہوگی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ الیکشن شیڈول کے اعلان کے بعد چیف الیکشن کمشنر کے پاس اختیارات منتقل ہوتے ہیں اس سے قبل وہ حکومت اور ارکان اسمبلی کے اختیارات منجمد کرنے کا اختیار نہیں رکھتے، اسی لئے معاملہ کورٹ میں گیا ہے، عدالت دیکھے گی کہ چیف الیکشن کمشنر کا ایکٹ قانونی ہے یا غیر قانونی ہے، عدالت یہ بھی دیکھے گی کہ چیف الیکشن کمشنر نے کس قانون اور آئین کے تحت ارکان اسمبلی کے اختیارات منجمد کئے اور ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد روکنے کا حکم دیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: چیف الیکشن کمشنر پارٹی میں
پڑھیں:
ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
اسلام آباد:قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔
ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔
جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔
اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔
سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔
چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔
سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔
اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔