محکمہ ایکسائز کا ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف کریک ڈاؤن
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
علی ساہی: ٹوکن ٹیکس نادہندگان، غیر نمونہ نمبر پلیٹس اور غیر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف پنجاب بھر میں ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈیپارٹمنٹ نے بڑا کریک ڈاؤن شروع کر دیا ہے۔
موٹر وہیکل قوانین میں حالیہ ترامیم کے بعد لاہور سمیت صوبے کے مختلف شہروں میں سخت ناکہ بندی کی جا رہی ہے,ای ٹی اوز کی سربراہی میں شہر کے داخلی و خارجی راستوں سمیت 8 مختلف مقامات پر ناکے لگا دیے گئے ہیں۔
ڈولفن سکواڈ کی کارروائی؛ 2مشکوک ملزمان گرفتار ، اسلحہ برآمد
ای ٹی او ندیم چوہدری کا کہنا تھا کہ نان رجسٹرڈ گاڑیوں کو موقع پر بند کیا جا رہا ہے جبکہ غیر نمونہ نمبر پلیٹس والی گاڑیوں کے نمبر پلیٹس اتار کر ضبط کیے جا رہے ہیں، ٹوکن ٹیکس نادہندگان سے موقع پر ہی ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے تاکہ مزید تاخیر اور خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے،کارروائی کے دوران نان کسٹم پیڈ اور مشتبہ چوری شدہ گاڑیوں کو بھی پکڑ کر متعلقہ اداروں کے حوالے کیا جا رہا ہے۔
ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے صوبہ بھر میں ہفتے میں تین روز باقاعدہ ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے تاکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن، نمبر پلیٹس اور ٹوکن ٹیکس سے متعلق قوانین پر سختی سے عمل درآمد کرایا جا سکے۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا امکان
محکمہ ایکسائز کا کہنا ہے کہ کارروائی کا مقصد ٹریفک نظام کو منظم کرنا، جعلی یا غیر نمونہ نمبر پلیٹس کے خطرات کم کرنا اور ریونیو میں بہتری لانا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔