حکومت کا کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنےکا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
حکومت نے کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا جو ہر سال بتدریج کم کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رہے۔
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کی زیرِ صدارت آٹو انڈسٹری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں پاکستان آٹو پارٹس مینوفیکچررز ایسوسی ایشن اور پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفود نے شرکت کی۔
اجلاس میں آٹو پالیسی، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد، اور انڈسٹریل فسیلیٹیشن کے امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پری شپمنٹ اور پوسٹ شپمنٹ انسپیکشن کے نظام سے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد میں بدعنوانی کو مؤثر انداز میں روکا جائے گا۔ معیاری کنٹرول اور واضح درآمدی قواعد سے شفافیت بڑھے گی اور انڈسٹری کو ترقی ملے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدی اسکیموں میں ترامیم کے لیے تجاویز تیار کی جا رہی ہیں تاکہ اصل اوورسیز پاکستانیوں کو سہولت فراہم کی جا سکے اور غلط استعمال کو روکا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کمرشل استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی جائے گی، جو ہر سال بتدریج کم کی جائے گی تاکہ مارکیٹ میں توازن برقرار رہے۔
اجلاس میں بیگیج، گفٹ اور ٹرانسفر آف ریذیڈنس اسکیموں میں یکسانیت پیدا کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا گیا۔
معاونِ خصوصی ہارون اختر خان نے اس موقع پر کہا کہ وزارتِ تجارت اور وزارتِ صنعت کے درمیان قریبی رابطہ ناگزیر ہے تاکہ ایک پائیدار اور عالمی معیار کا آٹو سیکٹر تشکیل دیا جا سکے۔
دونوں ایسوسی ایشنز کے نمائندوں نے لوکلائزیشن، وینڈر ڈیولپمنٹ، ٹیرف اسٹرکچر اور ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے حوالے سے اپنی تجاویز پیش کیں۔
جام کمال خان نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف درآمدات کے غلط استعمال پر قابو پانا نہیں بلکہ مقامی مینوفیکچرنگ کے فروغ اور عالمی سطح پر مسابقتی ماحول پیدا کرنا بھی ہے تاکہ آٹو سیکٹر ملکی معیشت میں مضبوط کردار ادا کر سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
(سٹی42)سندھ حکومت نے مہنگے داموں پاسکو سے گندم خرید کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
2024 کی پرانی گندم پاسکو سے خرید ی جائے گی،پاسکو نے فی 40 کلو گرام کا 4150 روپے نرخ مقرر کیا ہے۔
پاسکو نے 2 لاکھ 20 ہزار 665 میٹرک ٹن گندم سندھ کو دینے کی پیشکش کی ہے،سندھ نے کاشت کاروں کیلئے 3500 روپے گندم خریداری کا نرخ مقرر کیا تھا لیکن کاشت کاروں نے کم نرخ کی وجہ سے گندم حکومت کو نہیں دی اورسندھ حکومت ایک لاکھ میٹرک ٹن گندم نہیں خرید سکی۔
سندھ حکومت نےرواں سال 10 لاکھ میٹرک ٹن گندم خرید کرنے کا ہدف مقرر کیا تھا،اب سندھ حکومت 650 روپے فی 40 کلو گرام 650 روپے مہنگی گندم خرید رہی ہے،سندھ حکومت نے بیرون ممالک سے 5 لاکھ میٹرک ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
محکمہ خوراک سندھ کے مطابق صوبے کو 16 لاکھ میٹرک ٹن سے زائد گندم کی قلت کا سامنا ہے، سندھ میں گندم کی ضرورت 65 لاکھ 30 ہزار میٹرک ٹن ہے،سندھ میں گندم کی پیداوار 47 لاکھ میٹرک ٹن سے زیادہ ہوئی ، جبکہ ایک لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن پرانی گندم کے ذخائر موجود ہیں۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
محکمہ خوراک کے مطابق اوپن مارکیٹ میں زیادہ نرخ کی وجہ کاشت کاروں سے گندم خرید نہیںسکے،گندم کی قلت کا سامنا کرنے کی وجہ سے گندم درآمد کرنی پڑے گی،سندھ کابینہ نے گزشتہ روز گندم در آمد کرنے کی منظوری دیدی ہے۔