پنجاب بھر، خصوصاً لاہور میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی اسموگ ایک سنگین ماحولیاتی مسئلہ بن چکی ہے۔ فضائی آلودگی کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر پنجاب حکومت کی جانب سے اسموگ پر قابو پانے کے لیے ایک جامع اور بھرپور گرینڈ آپریشن جاری ہے، اسموگ سے نمٹنے کے لیے حکومت اسموگ گنز کا استعمال کر رہی ہے۔ شہر کی بڑی شاہراہوں پر بڑے ٹرکوں کے ذریعے پانی کا چھڑکاؤ کیا جا رہا ہے۔

ماحولیاتی ماہرین نے اس پر خبردار کیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے فضائی آلودگی پر قابو پانے کے لیے اینٹی اسموگ یا واٹر کینن گنز کے استعمال سے لاہور کو درپیش پانی کے بڑھتے ہوئے بحران میں مزید شدت آسکتی ہیں کیونکہ یہ نظام روزانہ زیرِ زمین پانی کی بھاری مقدار استعمال کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اینٹی اسموگ آپریشن کے باوجود لاہور آلودہ ترین شہر، ’یہ پنجاب حکومت کر کیا رہی ہے؟‘

ماہرین کے مطابق ایک ٹرک روزانہ 12,000 لیٹر پانی چھڑکتا ہے۔ 15 ٹرک روزانہ تقریباً 22 لاکھ لیٹر پانی استعمال کرتے ہیں جس سے عارضی طور پر صاف ہوا تو ملے گی مگر طویل مدت میں زیرِ زمین پانی کا نقصان ہو گا اور یہ حکمتِ عملی زیرِ زمین پانی کے ذخائر کو مزید کم کر دے گی۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ چین نے بھی اس طرح کے تجربات کیے تھے لیکن طویل مدت میں مؤثر ثابت نہ ہونے کے باعث انہیں ترک کر دیا گیا۔

Experts warn Lahore’s new anti-smog guns may worsen the city’s water crisis

Each truck sprays 12,000L daily — 15 trucks = 2.

2M litres/day
Short-term clean air, long-term groundwater loss? pic.twitter.com/OP9Cnt4bBy

— PakWheels.com (@PakWheels) October 29, 2025

واسا (واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی) کے اعداد و شمار کے مطابق، لاہور کی زیرِ زمین پانی کی سطح ہر سال دو سے تین فٹ کم ہو رہی ہے۔ 1980 میں پانی تقریباً 15 میٹر کی گہرائی پر دستیاب تھا، جبکہ اب بعض علاقوں میں یہ 70 میٹر سے بھی نیچے جا چکا ہے۔

ایک اینٹی سموگ گن میں ایک دفعہ میں 12 ہزار لیٹر  پانی استعمال کرتی ہے ،اینٹی سموگ گن میں  استعمال ہونے  والا پانی واسا، پی ایچ اور دیگر ذرائع سے لایا جاتا ہے ۔ ساجد بشیر آپریشنل ہیڈ کے مطابق لاہور میں اسموگ کے دنوں میں روزانہ ایک لاکھ اسی  ہزار لیٹر کے قریب پانی اسموگ کو کم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور ایک بار پھر دنیا کا آلودہ ترین شہر قرار

ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ (WWF) پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل حماد نقی خان نے خبردار کیا کہ لاہور کو اس وقت اسموگ سے زیادہ پانی کی قلت کے خطرے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار پیش رفت کے لیے ضروری ہے کہ اصل وجوہات جیسے گاڑیوں کا دھواں، غیر فلٹر شدہ صنعتی اخراج، ناقص معیار کا ایندھن، اور فصلوں کی باقیات جلانے کے عمل پر قابو پایا جائے، نہ کہ وقتی حل تلاش کیے جائیں۔

ماہرین متفق ہیں کہ جب تک ان بنیادی مسائل کو حل نہیں کیا جاتا، لاہور کے شہریوں کو مستقبل میں نہ صرف اسموگ بلکہ شدید پانی کی قلت کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسموگ اسموگ گنز لاہور مریم نواز وزیراعلٰی پنجاب

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسموگ اسموگ گنز لاہور مریم نواز استعمال کر زمین پانی پانی کی کے لیے

پڑھیں:

گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔

(جاری ہے)

حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔                                                              

متعلقہ مضامین

  • کیا آپ بھی رات دیر تک جاگتے ہیں؟ ماہرین نے سنگین خطرات سے خبردار کردیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہوسکا، شہری رُل گئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • سیکیورٹی خدشات: ڈرون اڑانے پر پابندی میںمزید 30 دن کی توسیع
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا