ایف آئی اے کی بڑی کارروائی، پاکستانی لڑکیوں کو جسم فروشی کیلئے دبئی لے جانے والا گینگ گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
ایف آئی اے امیگریشن نے ایئرپورٹ پر کارروائی کرتے ہوئے دبئی میں ملازمت کا جھانسہ دے کر لڑکیوں کو جسم فروشی کے لیے اسمگل کرنے والے گروہ کو بے نقاب کر دیا۔نجی ٹی وی کے مطابق اس نیٹ ورک کا انکشاف سائرہ نامی لڑکی کی نشاندہی پر ہوا، جو دبئی کے وزٹ ویزے پر ہوٹل میں ملازمت کے نام پر جا رہی تھی۔ اطلاع ملنے پر ایف آئی اے نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک ملزم کو گرفتار کر لیا۔تحقیقات کے مطابق شاہ زیب نامی شخص نے ندیم نامی انسانی اسمگلر سے حاصل ہونے والی رقم سے لڑکی کے وزٹ ویزے، ٹکٹ اور شو منی کا بندوبست کیا۔ چار لاکھ 20 ہزار روپے میں سے 40 ہزار روپے ایئرپورٹ کلیئرنس کے لیے اسلم نامی ایجنٹ کو دیے گئے۔ایف آئی اے کو سائرہ اور شاہ زیب کے واٹس ایپ نمبرز سے جسم فروشی کے دھندے میں ملوث گروہ کے دیگر ارکان سے رابطوں کے شواہد بھی ملے ہیں۔ سائرہ کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ شاہ زیب کو مزید تفتیش کے لیے حراست میں لے لیا گیا۔وزٹ ویزے پر ہوٹل ملازمت کیلئے جانے والی لڑکی نے گروہ سے متعلق اہم انکشافات کیے، ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کی نشاندہی پر انسانی اسمگلر شاہ زیب کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ایف آئی اے حکام کے مطابق شاہ زیب نے ندیم نامی اسمگلر سے ملنے والی رقم سے ویزے اور ٹکٹ کا انتظام کیا، 4 لاکھ 20 ہزار میں سے 40 ہزار ائیر پورٹ پر کلیئرنس کیلئے ایجنٹ کو دیے گئے۔ترجمان نے مزید بتایا کہ واٹس ایپ سے جسم فروشی میں ملوث دیگر ارکان سے رابطوں کے شواہد بھی ملے ہیں، لڑکی کو اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کردیا گیا ہے جبکہ شاہ زیب زیر حراست ہے جس سے مزید تحقیقات جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایف آئی اے شاہ زیب
پڑھیں:
دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث سیاحوں کی تعداد میں نمایاں کمی کے بعد دبئی نے سیاحت کو دوبارہ فروغ دینے کے لیے منفرد مہم شروع کر دی ہے۔
عرب میڈیا کے مطابق نئی اسکیم کے تحت متحدہ عرب امارات کے رہائشی اگر اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کو دبئی گھومنے کے لیے آمادہ کریں تو انھیں 3 ہزار اماراتی درہم مالیت تک کے انعامات اور سہولتیں دی جائیں گی۔
دبئی کے محکمۂ اقتصادیات و سیاحت کی جانب سے متعارف کرائی گئی اسکیم ’’دبئی اِنوائٹ‘‘ کے تحت یو اے ای میں مقیم افراد اپنے بیرونِ ملک رہنے والے دوستوں اور اہلِ خانہ کو نامزد کرسکتے ہیں۔
اگر کسی شہری کی دعوت پر ان کے دوست یا رشتہ دار سیاحتی ویزے پر دبئی آتے ہیں تو میزبان کو ہوٹل میں قیام، ریستورانوں میں خصوصی رعایت، تفریحی مقامات کے ٹکٹ اور دیگر مراعات پر مشتمل خصوصی پیکیج دیا جائے گا۔
اس اسکیم کے تحت ہر رہائشی زیادہ سے زیادہ تین مہمانوں کے لیے فوائد حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ مہمان 31 اکتوبر سے پہلے دبئی پہنچ جائیں۔ تاہم ان مراعات سے دسمبر تک فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ آنے والا فرد یو اے ای کا رہائشی نہ ہو، وہ درست سیاحتی ویزے پر سفر کرے اور اسے صرف ایک مرتبہ ہی نامزد کیا جا سکے گا۔
دبئی حکومت کے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی کے اثرات خلیجی ممالک تک پہنچنے کے بعد سیاحت شدید متاثر ہوئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے اور معروف فیئرمونٹ ہوٹل کو نقصان پہنچا جس سے دبئی کی محفوظ سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہوئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس 2025 میں دبئی نے تقریباً 2 کروڑ بین الاقوامی سیاحوں کا خیرمقدم کر کے نیا ریکارڈ قائم کیا تھا لیکن حالیہ جنگ کے بعد صورتحال یکسر بدل گئی ہے۔
ہوائی سفر پر سیکیورٹی خدشات بڑھنے کے باعث دبئی آنے والی کئی بین الاقوامی ایئرلائنز نے اپنی پروازیں معطل یا محدود کر دیں جبکہ متعدد طیاروں نے مشرقِ وسطیٰ کی فضائی حدود سے گزرنے سے گریز کیا۔
اس کے نتیجے میں دبئی ایئرپورٹس پر آپریٹ کرنے والی ایئرلائنز کی تعداد میں نمایاں کمی آئی۔ دوسری جانب ہوٹلوں میں بکنگ کم ہونے سے خالی کمروں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور کئی کاروباری اداروں کی آمدنی میں 50 فیصد سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی۔
دبئی کے بعض مشہور ہوٹلوں نے کم طلب کے باعث تزئین و آرائش کے منصوبے قبل از وقت شروع کر دیے ہیں۔ دنیا کے مشہور برج العرب ہوٹل کو بھی بڑے پیمانے پر مرمت اور بحالی کے لیے تقریباً 18 ماہ کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
اس کے علاوہ کئی ہوٹل اور سیاحتی ادارے حکومت کی نئی اسکیم کے تحت 45 فیصد تک رعایت اور مفت قیام جیسی خصوصی پیشکشیں بھی دے رہے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق دبئی اِنوائٹ اسکیم کے آغاز کے صرف 48 گھنٹوں میں 10 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو اس منصوبے سے سیاحت کی بحالی کی امیدیں وابستہ ہیں۔