پاکستان کے معروف گلوکار فلک شبیر نے میوزیکل شو ’پاکستان آئیڈل‘ کو اپنے تمام گانے بغیر کسی مالی یا قانونی شرط کے استعمال کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

فلک شبیر نے انسٹاگرام پر جاری ایک اسٹوری میں کہا کہ وہ شو کے منتظمین کو اپنے تمام گانوں کے استعمال کی مکمل اجازت دیتے ہیں تاکہ وہ نئے اور ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کر سکیں اور پاکستانی موسیقی کو عالمی سطح پر فروغ دیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئیڈل میں سجاد علی کے گانوں پر پابندی؟ گلوکار نے اپنے بیان میں سب کچھ بتادیا

گلوکار نے مزید کہا کہ وہ ’پاکستان آئیڈل‘ کے ججز اور تمام شرکاء کی بھرپور حمایت کرتے ہیں اور انہیں امید ہے کہ یہ پلیٹ فارم ملک کے نوجوان فنکاروں کے لیے کامیابی کے نئے دروازے کھولے گا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by DIVA Magazine Pakistan (@divamagazinepakistan)

واضح رہے کہ حال ہی میں معروف گلوکار سجاد علی نے انکشاف کیا تھا کہ ’پاکستان آئیڈل‘ کی انتظامیہ نے ان کے مشہور گانوں کے استعمال کے حقوق حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاہم فریقین کے درمیان مالی معاملات پر اتفاق نہ ہونے کے باعث ان کے گانوں کو شو میں شامل نہیں کیا جا سکا۔

یہ بھی پڑھیں: ’پاکستان آئیڈل میں ایسے جج بیٹھے ہیں جن کا موسیقی سے تعلق نہیں‘، حمیر ارشد کی فواد خان پر تنقید

سجاد علی کے مطابق، ان کے گانے ایسے معیار کے ہیں کہ اگر کوئی امیدوار انہیں گائے تو وہ باآسانی شو جیت سکتا ہے، لیکن چونکہ شو کے پاس ان کے باضابطہ حقوق نہیں ہیں، اس لیے ان کے گانے استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ فنکاروں کی تخلیقی محنت کا منصفانہ معاوضہ دینا نہایت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان آئیڈل کے ججز پر تنقید توجہ حاصل کرنے کے لیے ہے‘، موسیقار ہارون شاہد کا حمیرا ارشد کو جواب

یاد رہے کہ اس وقت ’پاکستان آئیڈل سیزن 2‘ جاری ہے جس میں فواد خان، راحت فتح علی خان، بلال مقصود اور زیب بنگش ججز کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ شو کے شرکاء کی پرفارمنسز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں اور ناظرین ان کی گلوکاری کو سراہ رہے ہیں، تاہم بعض صارفین کا کہنا ہے کہ امیدوار زیادہ تر پرانے گانے پیش کر رہے ہیں جبکہ نئے گانوں کی کمی محسوس کی جا رہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان آئیڈل پاکستانی گلوکار سجاد علی فلک شبیر فواد خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پاکستان آئیڈل پاکستانی گلوکار سجاد علی فلک شبیر فواد خان پاکستان آئیڈل فلک شبیر سجاد علی کے لیے

پڑھیں:

جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا

بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔

نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43

— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026

رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • لاہور: ماں دوسرے شوہر کے ساتھ چلی گئی، عدالت کے باہر 8 بیٹیاں روتی رہیں، ویڈیو وائرل
  • جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • والدین کے لیے بڑی راحت، اب بچے فیس بک، انسٹاگرام استعمال نہیں کر سکیں گے
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ