پاکستان کی اسرائیلی جارحیت اور غزہ امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ فلسطین کو 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور مستحکم ریاست کے طور پر قائم کیا جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان نے غزہ میں اسرائیل کے تازہ حملوں کی شدید مذمت کی ہے، جس میں قابض فوج نے مزید فلسطینیوں کو شہید کیا ہے۔ وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہ کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور حال ہی میں طے پانے والے امن معاہدے کی صریحاً خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی افواج کے ایسے جارحانہ اقدامات خطے میں پائیدار امن و استحکام کیلئے جاری عالمی کوششوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کو فوری طور پر رکوانے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ فلسطین کو 1967ء سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد، خودمختار اور مستحکم ریاست کے طور پر قائم کیا جائے، جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔