مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال: ایمازون کا 14 ہزار ملازمین فارغ کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نیویارک: دنیا کی سب سے بڑی ای کامرس کمپنی ایمازون نے عالمی سطح پر اپنے کارپوریٹ اسٹاف میں سے 14 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا اعلان کردیا ہے، یہ اقدام انتظامی ڈھانچے کو سادہ بنانے، بیوروکریسی کم کرنے اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی نظام کے فروغ کے لیے کیا گیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایمازون کی جانب سے جاری نوٹ میں کہا گیا ہےکہ ادارہ اب اپنے وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے اور ایسے منصوبوں پر توجہ دینے کا خواہاں ہے جو کمپنی کے مستقبل کو مستحکم بنائیں،ہماری کوشش ہے کہ اضافی انتظامی سطحوں کو ختم کرکے ادارے کو زیادہ تیز اور مؤثر بنایا جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، کے ذریعے کمپنی کو آئندہ دور کے تقاضوں کے مطابق ڈھالا جا سکے۔
کمپنی کی سینئر نائب صدر بیتھ گلیٹی نے اس فیصلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایمازون آنے والے برسوں میں بھی انتخابی بنیادوں پر بھرتی کے عمل کو جاری رکھے گا، بعض شعبوں میں افرادی قوت میں کمی کی جائے گی جبکہ دیگر جدید شعبوں، خصوصاً کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور اے آئی انفراسٹرکچر میں، نئی بھرتیاں ہوں گی۔
خیال رہےکہ ایمازون نے کورونا وبا کے دوران ضرورت سے زیادہ بھرتیاں کی تھیں تاکہ آن لائن خریداری کے بڑھتے رجحان سے نمٹا جا سکے، اب کمپنی بتدریج اپنی افرادی قوت کو کم کر رہی ہے۔
گزشتہ سال کے اختتام تک ایمازون کے کل ملازمین کی تعداد 15 لاکھ 60 ہزار سے زائد تھی، جن میں سے تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار کارپوریٹ شعبے میں خدمات انجام دے رہے تھے۔
کمپنی کے نوٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ متاثرہ ملازمین کو 90 روز کا وقت دیا جائے گا تاکہ وہ کمپنی کے اندر کسی نئی پوزیشن کے لیے درخواست دے سکیں، جبکہ بھرتی کے عمل میں انہیں ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جائے گا۔
ایمازون کے سی ای او اینڈی جیسی نے کہا کہ کمپنی مستقبل میں جنریٹیو اے آئی (Generative AI) کے استعمال میں نمایاں اضافہ کرے گی، جس سے متعدد انتظامی امور خودکار نظام کے تحت انجام دیے جائیں گے اور انسانی افرادی قوت کی ضرورت میں کمی آئے گی۔
اینڈی جیسی کے مطابق ایمازون اس سال 118 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی، جس کا بڑا حصہ کلاؤڈ سروسز، مصنوعی ذہانت، اور جدید ڈیٹا انفراسٹرکچر کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اس عمل کو ایک تکلیف دہ مگر ناگزیر قدم سمجھتی ہے تاکہ ایمازون مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی قیادت برقرار رکھ سکے اور صارفین کو مزید تیز، مؤثر اور جدید خدمات فراہم کر سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مصنوعی ذہانت
پڑھیں:
مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
بلیوں اور دیگر معصوم جانوروں کی دل موہ لینے والی ویڈیوز برسوں سے انٹرنیٹ پر خوشی اور سکون کا ذریعہ سمجھی جاتی رہی ہیں تاہم مصنوعی ذہانت یا اے آئی سے تیار کی جانے والی جعلی ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد نے اب ان پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ اے آئی سے بنائی گئی جعلی تصویر پہچان سکتے ہیں؟ ماہرین نے 6 اہم نشانیاں بتا دیں
بی بی سی کی ایک تجزیاتی رپورٹ کے مطابق اب بہت سے صارفین کسی بھی خوبصورت جانور کی ویڈیو دیکھ کر لطف اندوز ہونے کے بجائے پہلے یہ سوچتے ہیں کہ آیا یہ منظر حقیقت ہے یا مصنوعی ذہانت کی تخلیق۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی میں بلیوں اور دیگر جانوروں کی ویڈیوز انٹرنیٹ پر معصومیت، خوشی اور حقیقی جذبات کی علامت سمجھی جاتی تھیں لیکن اب اے آئی کی بدولت ایسی ویڈیوز اتنی حقیقت سے قریب دکھائی دیتی ہیں کہ ان کی اصلیت پر یقین کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں میڈیا اسٹڈیز کی ایسوسی ایٹ پروفیسر جیسیکا میڈوکس کے مطابق جانوروں کی ویڈیوز کی اصل خوشی اس احساس میں ہوتی ہے کہ یہ واقعی پیش آیا تھا جبکہ اے آئی اس احساس کو مکمل طور پر ختم کر دیتی ہے۔
مزید پڑھیے: بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچیں، اے آئی کے دور میں نئے خطرات سمجھیں
انہوں نے کہا کہ جب صارفین کو شک ہونے لگے کہ ویڈیو حقیقی نہیں تو وہ جذباتی طور پر اس سے جڑنے کے بجائے پہلے اس کی تصدیق کرنے لگتے ہیں جس سے خوشی کا احساس مصنوعی اور کھوکھلا محسوس ہونے لگتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہی صورتحال صرف جانوروں کی ویڈیوز تک محدود نہیں بلکہ ایسی ویڈیوز بھی متاثر ہو رہی ہیں جنہیں لوگ ’آڈلی سیٹسفائنگ‘ یا مزاحیہ کلپس کے طور پر پسند کرتے ہیں۔
اعتماد میں کمی کا خدشہماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صارفین جعلی جانوروں کی ویڈیوز کو قبول کرنے لگیں تو مستقبل میں سیاست دانوں، جرائم، حادثات اور دیگر اہم واقعات سے متعلق اے آئی سے تیار کردہ جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو بھی آسانی سے سچ سمجھا جا سکتا ہے جو معاشرے میں غلط معلومات کے پھیلاؤ کا سبب بن سکتا ہے۔
مزید پڑھیں: اے آئی سے تیار جعلی شواہد نے کورین اداکار کا کیریئر تباہ کر دیا
رپورٹ میں سنہ 2024 میں امریکا میں آنے والے ہریکین ہیلین کا حوالہ بھی دیا گیا جب تباہ کن سیلاب کے دوران مصنوعی ذہانت سے تیار کی گئی متعدد تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں اور کئی افراد نے بعد میں یہ تسلیم کرنے کے باوجود کہ تصاویر جعلی تھیں انہیں حقیقت سے قریب قرار دیا۔
حقیقی تخلیق کار بھی متاثر ہوں گےماہرین کے مطابق اے آئی ویڈیوز کا ایک بڑا اثر حقیقی کانٹینٹ کریئیٹرز پر بھی پڑ سکتا ہے کیونکہ مصنوعی ذہانت چند لمحوں میں بے شمار ویڈیوز تیار کر سکتی ہے جبکہ حقیقی ویڈیو بنانے والوں کو وقت، محنت اور وسائل درکار ہوتے ہیں۔
اس صورتحال میں معیاری اور حقیقی مواد تخلیق کرنے والوں کے لیے اپنی محنت کا مناسب معاوضہ حاصل کرنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
انٹرنیٹ کا اگلا بڑا چیلنججیسیکا میڈوکس کا کہنا ہے کہ انٹرنیٹ پر بظاہر معصوم اور تفریحی مواد بھی مستقبل میں زیادہ خطرناک غلط معلومات کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: جعلی ہولوکاسٹ تصاویر سے کمائی، اسپیمرز کا عالمی نیٹ ورک بے نقاب
رپورٹ کے مطابق اب سوال یہ نہیں کہ اے آئی جانوروں کی ویڈیوز بنا سکتی ہے یا نہیں بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ صارفین ایک ایسے انٹرنیٹ کے ساتھ کیسے مطابقت پیدا کریں گے جہاں حقیقت اور مصنوعی تخلیق میں فرق کرنا روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اصلی اور نقلی اے آئی اے آئی جانور جانوروں کی ویڈیوز جانوروں کی ویڈیوز کا مزہ کرکرا مصنوعی ذہانت