حکومت کا 200 ملین ڈالر مالیت کی گوشت برآمدات کے ہدف کے لیے جامع پالیسی تیار کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان نے کہا کہ حکومت گوشت کی برآمدی بنیاد کو مضبوط بنانے اور پاکستان کو اعلیٰ قدر والی بین الاقوامی منڈیوں، خصوصاً ملائیشیا، تک بہتر رسائی دلانے کے لیے پرعزم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر کمیٹی کو ایک جامع پالیسی تشکیل دینے کا کام سونپا گیا ہے، جو نہ صرف قلیل المدتی برآمدی مسائل بلکہ طویل المدتی اصلاحات کو بھی مدنظر رکھے گی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ملائیشیا کو 200 ملین ڈالرز کا گوشت برآمد کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف کی ملائیشین ہم منصب کے ہمراہ گفتگو
وزارتِ تجارت میں پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان گوشت کے شعبے میں تعاون سے متعلق ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ تجارت نے واضح کیا کہ ملائیشیا پاکستان کے لیے ایک موزوں منڈی ثابت ہو سکتی ہے۔
ان کا مؤقف تھا کہ ایسا اس وقت ہی ممکن ہے جب قیمتوں میں مسابقت، معیار پر عمل اور سپلائی کے تسلسل کو مؤثر انداز میں یقینی بنایا جائے۔
ان کے مطابق نئی پالیسی میں بیماریوں پر قابو، حلال سرٹیفکیشن، اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری جیسے نکات پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جس کے لیے صوبائی حکومتوں اور نجی شعبے کے ساتھ قریبی تعاون کیا جائے گا۔
اجلاس میں پاکستان کی گوشت کی برآمدات میں اضافے اور ایک جامع پالیسی فریم ورک کی تیاری پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور ملائیشیا کا پائیدار اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم، وزیراعظم کا دورہ مکمل، مشترکہ اعلامیہ جاری
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ہارون اختر خان نے بتایا کہ پاکستان کی ملائیشیا کو گوشت برآمد کرنے کی موجودہ صلاحیت تقریباً 200 ملین ڈالر تک ہے، لیکن اس ہدف کے حصول کے لیے فوری اقدامات درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ برآمدی صلاحیت کو بڑھانے میں فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز اور ہڈی والے گوشت کی برآمد پر پابندی جیسی رکاوٹیں دور کرنا ناگزیر ہیں۔
مزید پڑھیں:
ان کے مطابق، پاکستان کو مسابقت میں نقصان اس لیے ہوتا ہے کہ بھارتی برآمد کنندگان کو ہڈی والے گوشت کی اجازت حاصل ہے، جب کہ پاکستان کو بیماری کے خدشات کے باعث صرف بغیر ہڈی والے گوشت کی برآمد تک محدود رہنا پڑتا ہے۔
وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ رانا تنویر حسین نے یقین دہانی کرائی کہ وزارتِ قومی غذائی تحفظ و تحقیق بیماریوں پر قابو پانے اور مویشیوں کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب میں فٹ اینڈ ماؤتھ ڈیزیز کے کنٹرول اور فیڈ لاٹ فیٹننگ کے منصوبوں پر خاطر خواہ کام ہو چکا ہے اور اب ان اقدامات کو دیگر صوبوں تک وسعت دی جائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ بیماریوں کے کنٹرول، مویشیوں کی نسل میں بہتری، خوراکی معیار کے فروغ اور سرکاری سہولت کاری کے لیے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، تاکہ اس شعبے کی ترقی کو ادارہ جاتی بنیادوں پر فروغ دیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پاکستان اور ملائیشیا کا پائیدار اقتصادی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم، وزیراعظم کا دورہ مکمل، مشترکہ اعلامیہ جاری
اس کے ساتھ وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی کو بھی عملدرآمدی عمل میں شامل کرنے کی تجویز دی گئی، تاکہ حلال سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی معیار پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سندھ حکومت کو بھی اس عمل کا حصہ بنایا جائے گا کیونکہ کراچی بندرگاہ گوشت کی برآمدات میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان پہلگام حملے کی تحقیقات میں ملائیشیا کی شرکت کا خیر مقدم کرےگا، شہباز شریف
اجلاس کے اختتام پر وفاقی وزیر جام کمال خان نے تمام وزارتوں اور اسٹیک ہولڈرز کو ہدایت کی کہ وہ مقررہ مدت کے اندر اپنی سفارشات اور رپورٹس مکمل کریں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت تحقیق پر مبنی منصوبہ بندی، نجی و سرکاری اشتراک اور معیاری برآمدات کے فروغ کے ذریعے پاکستان کو عالمی سطح پر حلال گوشت کا ایک معتبر اور پائیدار سپلائر بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسٹیک ہولڈرز پاکستان جام کمال خان حلال سرٹیفکیشن حلال گوشت رانا تنویر حسین فریم ورک کراچی بندرگاہ گوشت ملائیشیا وفاقی وزیرِ غذائی تحفظ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسٹیک ہولڈرز پاکستان جام کمال خان حلال گوشت رانا تنویر حسین کراچی بندرگاہ گوشت ملائیشیا وفاقی وزیر غذائی تحفظ گوشت کی برآمد وفاقی وزیر پاکستان کو مزید پڑھیں کے لیے
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔