منگل کے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی سے مندی کے باعث 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوئی۔

ابتدائی مثبت آغاز کے باوجود، سیشن کے آخری حصے میں منافع کے حصول کے رجحان کے باعث مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار رہی۔

یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں مندی، انڈیکس میں 1,300 پوائنٹس کی کمی

کاروبار کے آغاز پر مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھا گیا اور بینچ مارک انڈیکس دن کے دوران 163,380.

67 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔

 https://Twitter.com/investifypk/status/1983130390664548527

تاہم، آخری گھنٹوں میں سرمایہ کاروں کے محتاط رویے اور منافع کے حصول کے باعث انڈیکس 159,805.34 پوائنٹس کی نچلی سطح تک گر گیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 2062.79 پوائنٹس یعنی 1.27 فیصد کی نمایاں کمی کے ساتھ 160,101.02 پوائنٹس پربند ہوا۔

مزید پڑھیں: پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟

پیر کے روز اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کمیٹی کے مطابق ستمبر میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 5.6 فیصد تک جا پہنچی، جب کہ بنیادی افراطِ زر 7.3 فیصد پر مستحکم رہی۔

کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا کہ حالیہ سیلاب کے معیشت پر اثرات خدشات سے کچھ کم رہے ہیں۔

ادھرآئی ایم ایف سے متعلق خبروں کے مطابق، ادارہ دسمبر 2025 تک اپنا بورڈ اجلاس بلائے گا تاکہ پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری دی جا سکے۔

مزید پڑھیں:سرمایہ کاروں کا اعتماد اسٹاک ایکسچینج میں بہتری کا باعث، کیا معیشت مستحکم ہورہی ہے؟

پیر کے روز ہی پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے رول اوور ویک کا آغاز مندی کے ساتھ کیا تھا، جب سرمایہ کاروں کی محتاط حکمتِ عملی اور منافع کے حصول کے باعث انڈیکس میں 1,140.32 پوائنٹس یعنی 0.7 فیصد کی کمی کے ساتھ 162,163.81 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بین الاقوامی سطح پر، ایشیائی منڈیوں میں منگل کے روز حالیہ تیزی کے بعد معمولی کمی دیکھی گئی۔

تجارتی کشیدگی میں کمی کی امیدوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا دیا، جب کہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے منافع کی توقعات نے بھی مارکیٹ کو سہارا دیا۔

امریکی اور کینیڈین مالیاتی اداروں کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کے امکانات نے بانڈز کی قدر کو مستحکم رکھا، جب کہ ڈالر کے نرخ فی الحال فیڈرل ریزرو کی آئندہ پالیسی کے منتظر ہیں۔

مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں منافع کے حصول کا رجحان، ابتدائی تیزی زائل

دوسری جانب، سونا 4000 ڈالر فی اونس کے قریب مستحکم رہا، اگرچہ گزشتہ پانچ سیشنز میں 9 فیصد کمی کے باعث مارکیٹ میں دباؤ برقرار ہے۔

ایشیا کی کئی مارکیٹیں تاریخی بلند سطحوں پر پہنچنے کے بعد اب قدرے پُرامن وقفہ لے رہی ہیں۔

جاپان کا نکی انڈیکس پیر کے 2.5 فیصد اضافے کے بعد منگل کو 0.2 فیصد نیچے آیا، تاہم سال بھر کے دوران مجموعی طور پر 27 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

جاپان کی نئی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے ٹوکیو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں دفاعی تعاون، تجارتی تعلقات اور 550 ارب ڈالر مالیت کے سرمایہ کاری پیکیج پر بات چیت ہوئی۔

جنوبی کوریا کی مارکیٹ میں 1.4 فیصد کمی دیکھی گئی، تاہم تیسری سہ ماہی کے معاشی اعداد و شمار توقعات سے بہتر رہے جنہیں برآمدات اور صارفین کے خرچ نے سہارا دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسٹیٹ بینک انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج تجارتی کشیدگی ٹیکنالوجی ڈالر فیڈرل ریزرو مانیٹری پالیسی کمیٹی منافع مندی

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک انڈیکس پاکستان اسٹاک ایکسچینج تجارتی کشیدگی ٹیکنالوجی ڈالر فیڈرل ریزرو مانیٹری پالیسی کمیٹی منافع پاکستان اسٹاک ایکسچینج اسٹاک ایکسچینج میں منافع کے حصول سرمایہ کاروں پوائنٹس کی کے ساتھ کے باعث کے روز کمی کے کے بعد

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سوناہزاروں روپے سستا، ایک دن کی بڑی کمی نے مارکیٹ ہلا دی
  • مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، اسٹاک ایکسچینج میں 1,200 سے زائد پوائنٹس کی کمی
  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ