پاکستانی معیشت میں بحالی کے آثار، وزارتِ خزانہ نے معاشی استحکام پر اعتماد کا اظہار کردیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
وزارتِ خزانہ نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ حالیہ معاشی اشاریے پاکستانی معیشت میں بتدریج بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں، جب کہ مالیاتی نظم و ضبط، برآمدات میں بہتری اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کے باعث مجموعی استحکام پر اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔
نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق حکومت کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے ابتدائی تین ماہ میں عام طور پر ہونے والے خسارے کے بجائے 15 کھرب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم اس نے تسلیم کیا کہ سیلاب اور پاک-افغان سرحد کی بندش کے باعث اشیائے ضروریہ کی سپلائی متاثر ہوئی، جس سے روزمرہ استعمال کی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
وزارتِ خزانہ نے اپنی رپورٹ ’ماہانہ اقتصادی جائزہ و تجزیہ اکتوبر 2025‘ میں کہا کہ سیلاب اور سرحد کی عارضی بندش کے باعث سپلائی متاثر ہوئی، جس سے کچھ بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں۔
تاہم وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ رواں ماہ مہنگائی کی شرح 5 سے 6 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے، ستمبر میں مہنگائی 5.
وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی اور اگست 2026 کے دوران وفاقی آمدن میں 231.4 فیصد اضافہ ہوا، جو بڑھ کر 3 کھرب 27 ارب روپے تک پہنچ گئی، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 986 ارب 70 کروڑ روپے تھی، یہ اضافہ زیادہ تر غیر ٹیکس آمدن میں 721.1 فیصد اور ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 14.1 فیصد اضافے کی وجہ سے ہوا۔
رپورٹ کے مطابق غیر ٹیکس محصولات میں اضافہ زیادہ تر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے منافع میں اضافے کی وجہ سے ہوا، جس میں ڈیویڈنڈز، دفاعی وصولیاں، خام تیل پر ونڈ فال لیوی، گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس اور پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدنی نے بھی مدد کی۔
مالی سال 2026 کی پہلی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) کے دوران ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 12.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد کل وصولی 2 کھرب 88 ارب 40 کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔
رپورٹ کے مطابق اخراجات میں 7.6 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد مجموعی اخراجات 1 کھرب 76 ارب روپے تک پہنچ گئے، نتیجے میں وفاقی مالی توازن 1 کھرب 50 ارب 90 کروڑ روپے کے سرپلس میں رہا، جب کہ گزشتہ سال اسی عرصے میں 648 ارب 80 کروڑ روپے کا خسارہ تھا، اسی طرح بنیادی توازن میں بھی نمایاں بہتری آئی، جو بڑھ کر 2 کھرب 93 ارب 90 کروڑ روپے سرپلس میں آگیا، جب کہ گزشتہ سال یہ صرف 49 ارب 40 کروڑ روپے تھا۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں اور سیلاب نے زرعی شعبے کو متاثر کیا، لیکن اس کے باوجود بحالی کے ابتدائی آثار نظر آ رہے ہیں، ابتدائی اندازوں کے مطابق حالیہ سیلاب سے زراعت کو تقریباً 430 ارب روپے کا نقصان ہوا، جس سے چاول، کپاس، گنا، مکئی، چارہ اور سبزیوں کی فصلیں متاثر ہوئیں۔
اس کے باوجود حالیہ اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بحالی کے اقدامات جاری ہیں، جنہیں زرعی قرضوں میں اضافے، مشینری کی زیادہ درآمدات اور کھاد کی بہتر فراہمی سے تقویت مل رہی ہے۔
وزارتِ خزانہ نے مزید کہا کہ پاکستان کی برآمدی منڈیوں میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری آنے کے باعث برآمدات میں اضافے کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔
امریکا، برطانیہ، چین اور یورو زون کے کمپوزٹ لیڈنگ انڈیکیٹرز گزشتہ ماہ کے مقابلے میں بہتر ہوئے ہیں اور اب اپنی طویل مدتی صلاحیت کی سطح سے اوپر یا قریب ہیں، جو پاکستان کے لیے برآمدات کے بہتر امکانات کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہانہ رپورٹ میں کہا گیا کہ سیلاب سے متعلق مشکلات کے باوجود پاکستان کی معیشت بحالی کے راستے پر گامزن رہی۔
صنعتی سرگرمیاں مضبوط رہیں، بالخصوص بڑی صنعتوں میں بہتری دیکھی گئی، جن میں سیمنٹ، آٹوموبائل اور متعلقہ شعبے شامل ہیں، جب کہ برآمدات اور ترسیلاتِ زر میں بھی مسلسل بہتری آ رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بیرونی مالی صورتحال بھی مستحکم رہی اور ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا گیا، جو مضبوط ترسیلاتِ زر کا نتیجہ ہے۔
وزارتِ خزانہ نے آئی ایم ایف کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (ای ایف ایف) اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت کامیاب جائزے کو پاکستان کی اصلاحاتی سمت اور محتاط معاشی نظم و نسق پر اعتماد کا اظہار قرار دیا۔
نجکاری، ڈیجیٹل گورننس اور سی پیک فیز 2.0 کے مشترکہ منصوبوں میں جاری پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت مالیاتی استحکام، ساختی اصلاحات اور پائیدار و جامع ترقی کے لیے پرعزم ہے۔
وزارت خزانہ نے مزید کہا کہ حکومت مالیاتی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے اور ایک مضبوط و مستقبل بین معاشی پالیسی فریم ورک کے اندر سماجی تحفظ کے ہدفی اقدامات جاری رکھنے کے لیے پُرعزم رہے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: رپورٹ کے مطابق میں اضافے اضافہ ہوا کروڑ روپے بحالی کے کے باعث
پڑھیں:
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل
نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئی قیمتیں نافذجاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔
عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہمعاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ
ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔
حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔
اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا