Islam Times:
2026-07-24@07:52:24 GMT

فیض حمید کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی، صدر اے این پی

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

فیض حمید کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی، صدر اے این پی

صدر اے این پی نے فیض حمید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ چائے کا کپ پکڑ کر کابل میں 40 ہزار دہشت گردوں کو منظم کرنے والا آج بھی بے حساب ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے کہا ہے کہ سابق لیفٹننٹ جنرل فیض حمید کو ان کے جرائم پر حقیقی سزا نہیں ملی ہے اور پختونوں کی دوبارہ نسل کشی کی کوشش پر بھی ان سے بازپرس نہیں ہوئی۔ صدر اے این پی سینیٹر ایمل ولی خان نے فیض حمید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جنرل (ر) فیض حمید کو ان کے جرائم کی حقیقی سزا نہیں ملی، چائے کا کپ پکڑ کر کابل میں 40 ہزار دہشت گردوں کو منظم کرنے والا آج بھی بے حساب ہے۔ انہوں نے کہا کہ پختونوں کی دوبارہ نسل کشی کی کوشش پر بھی فیض سے بازپرس نہیں ہوئی، فیض–باجوہ–عمران گٹھ جوڑ کے سارے "فیض یاب" آج بھی اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں۔

ایمل ولی خان نے کہا کہ پوری ایک نسل کو اپنے سیاسی مشران کا دشمن بنایا گیا، قوم کو بتایا گیا کہ آپ کے سارے مشران چور ہیں اور صرف ایک مسیحا ہےجبکہ وفاق اور پنجاب نے تبدیلی 4 سال انجوائے کی اور سب سے زیادہ نقصان پختونوں نے اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ کی تیسری بار کی گئی انجینئرنگ نے صوبہ تباہ کیا، جب تک پورے گٹھ جوڑ کا احتساب نہیں ہوتا، امن اور انصاف ممکن نہیں ہے۔ ایمل ولی خان نے مطالبہ کیا کہ پختونوں کے خلاف سازشیں بے نقاب کیے بغیر حالات درست نہیں ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایمل ولی خان نے اے این پی فیض حمید کہا کہ

پڑھیں:

تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (PTI) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔

پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔

دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔

بڑی احتجاجی کال پر تحفظات

پارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔

9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکا

پارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔

26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔

مزیدپڑھیں:بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی

اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل

عمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔

پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔

5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟

گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی ٹماٹر بھی ریلیف نہ لا سکے، کراچی میں قیمتیں آسمان پر
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • نیٹ فلکس کی پہلی پاکستانی اوریجنل سیریز ’جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو‘ کب ریلیز ہو گی؟
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف