وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق سعودی عرب رواں مالی سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی دے گا جو 290 ارب روپے کے مساوی ہوگی۔ حکام نے کہا کہ سعودی عرب 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا، 2 ارب ڈالر دسمبر جبکہ 3 ارب ڈالر قرض جون 2026ء میں واجب الادا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سعودی عرب رواں مالی سال 2025-26ء میں پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کرے گا جب کہ 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا۔ وزارت خزانہ کے حکام کے مطابق سعودی عرب رواں مالی سال پاکستان کو ایک ارب ڈالر کی آئل فیسیلٹی دے گا جو 290 ارب روپے کے مساوی ہوگی۔ حکام نے کہا کہ سعودی عرب 5 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس بھی رول اوور کرے گا، 2 ارب ڈالر دسمبر جبکہ 3 ارب ڈالر قرض جون 2026ء میں واجب الادا ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 3 ماہ میں 85 ارب روپے سے زائد کی آئل فیسیلٹی دی گئی، سعودی عرب کی طرف سے فراہم کردہ سہولت 30 کروڑ ڈالر کے مساوی ہے۔ اسی طرح سعودی عرب ماہانہ بنیاد پر 10 کروڑ ڈالر کی آئل فیسیلٹی فراہم کر رہا ہے، پاکستانی کرنسی میں یہ سہولت 28 ارب 37 کروڑ روپے ماہانہ ہے۔

وزارت خزانہ کے حکام کا مزید کہنا تھا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر ٹائم ڈیپازٹس 4 فیصد شرح سود پر دے رکھے ہیں، سعودی عرب ان فنڈز کی ادائیگی ہر سال رول اوور کرتا ہے۔ خیال رہے قرض کی مد میں سعودی ڈیپازٹس 1450 ارب روپے کے مساوی ہیں، سعودی عرب نے پاکستان کو یہ قرض بجٹ سپورٹ کی مد میں فراہم کر رکھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وزارت خزانہ کے حکام رواں مالی سال پاکستان کو کے مساوی ارب روپے رول اوور ڈالر کے کرے گا

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے