پنجاب میں گرین اسٹیکرکےبغیرگاڑیوں کی آمدورفت پرپابندی
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
لاہور:پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (ای پی اے) نے 15 نومبر 2025ءکے بعد صوبے میں گرین ا سٹیکر کے بغیر گاڑیوں کی آمدورفت پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈائریکٹر جنرل ماحولیات ڈاکٹر شیخ کا کہنا ہے کہ لاہور میں ہر گاڑی کے لیے ایگزاسٹ ٹیسٹنگ (ETS) لازمی قرار دے دی گئی اور صوبے بھر میں ماحولیاتی معیار کی خلاف ورزی کرنے والی گاڑیوں کے خلاف زیرو ٹالرینس کریک ڈاائون شروع کر دیا گیا ہے۔
15 نومبر کے بعد لاہور کی سڑکوں پر بغیر ای ٹی ایس سرٹیفکیٹ یا گرین اسٹیکر والی کسی گاڑی کو دیکھتے ہی ضبط کر لیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ گاڑیوں کے دھوئیں اور شور کی جانچ اب اختیاری نہیں بلکہ لازمی ہے اور ٹیسٹ میں ناکام گاڑیوں کے مالکان کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔
ای پی اے پنجاب نے لاہور سے انسداد آلودگی مہم کا آغاز کر دیا ہے اور شہریوں سے اپیل ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی گاڑیاں ٹیسٹ کروائیں بصورت دیگر انہیں سڑکوں سے ہٹا دیا جائے گا، صرف وہی گاڑیاں چل سکیں گی جو ماحولیاتی قوانین پر مکمل عمل درآمد کر رہی ہوں گی۔
علاوہ ازیں پنجاب میں ٹوکن ٹیکس نادہندگان کے خلاف بھی سخت کارروائی جاری ہے جس کے تحت 5 لاکھ سے زائد گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
روڈ چیکنگ کے دوران پکڑی گئی بڑی ٹوکن ٹیکس ڈیفالٹر گاڑیوں کو بند کیا جائے گا، نان رجسٹرڈ سرکاری اور غیر سرکاری گاڑیوں کو بھی بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
یہ اقدام ٹوکن ٹیکس کے نظام میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ ڈی جی ایکسائز عمر شیر چٹھہ نے 31 اکتوبر تک ٹوکن ٹیکس ادا نہ کرنے والی گاڑیوں کی رجسٹریشن معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل گاڑیوں کی ٹوکن ٹیکس
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔