بھارت بھر میں اس عمل کو نافذ کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر سے متعلق عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے تسلی بخش جوابات فراہم کرنے چاہیئے۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر ملک معتصم خان نے الیکشن کمیشن آف انڈیا کی جانب سے 12 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹر لسٹوں کی ملک گیر "خصوصی نظرثانی" (Special Intensive Revision – SIR) کے اعلان پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ریاست بہار میں ہونے والے حالیہ SIR سے سبق سیکھنے پر زور دیتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ الیکشن کمیشن کو شفافیت، انصاف اور شمولیت کو یقینی بنانا چاہیئے تاکہ بڑے پیمانے پر ووٹروں کے اخراج کی صورتحال دوبارہ پیدا نہ ہو۔ میڈیا کے لئے جاری ایک بیان میں ملک معتصم خان نے کہا کہ بہار میں SIR کے دوران سنگین بے ضابطگیاں اور شفافیت کی شدید کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ابتدائی مرحلے میں تقریباً 65 لاکھ نام ووٹر لسٹوں سے حذف کر دئے گئے جو کہ ایک غیر معمولی تعداد تھی، نظرثانی کے بعد بھی 47 لاکھ ووٹرز فہرست سے خارج کر دئے گئے۔

اس پورے عمل کے دوران شہریت کا ثبوت فراہم کرنے کا پورا بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا جبکہ یہ ذمہ داری حکومت کی تھی۔ اس طرح اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر لسٹ نظرثانی کے ایک انتظامی کام کو شہریت کی تصدیق کے نیم عدالتی عمل میں بدل دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت بھر میں اس عمل کو نافذ کرنے سے پہلے الیکشن کمیشن کو ایس آئی آر سے متعلق عوام کے ذہنوں میں پیدا ہونے والے سوالوں کے تسلی بخش جوابات فراہم کرنے چاہیئے۔ اس ضمن میں ملک معتصم خان نے کئی اہم سوالات اٹھائے جن کا جواب الیکشن کمیشن سے طلب کیا گیا۔ انہوں نے پوچھا کہ بہار کے تجربے سے کیا سبق حاصل کیا گیا اور SIR کے رہنما اصولوں میں کیا تبدیلیاں کی گئیں۔ انہوں نے کمیشن کے مقرر کردہ وقت پر بھی اعتراض کیا کہ صرف ایک ماہ میں اتنے وسیع عمل کو انجام دینا مختلف مسائل کو جنم دے گا۔

انہوں نے الیکشن کمیشن سے یہ بھی پوچھا کہ کیا مبینہ غیر قانونی غیر ملکیوں کی شناخت اس عمل کا مقصد تو نہیں ہے۔ ملک معتصم خان نے یہ وضاحت بھی چاہی کہ سپریم کورٹ کی ہدایات کے باوجود آدھار کارڈ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر کیوں مسترد کیا جا رہا ہے، جبکہ دیگر دستاویزات قبول کی جا رہی ہیں اور 2002/2003 کی ووٹر لسٹ میں درج نام کی بنیاد پر استثنا کن افراد کو حاصل ہوگا، صرف اس شخص کو جس کا نام لسٹ میں شامل تھا یا اس کے بچوں کو بھی یہ راحت حاصل ہوگی۔ انہوں نے گھر گھر تصدیق کے نئے طریقۂ کار پر بھی اپنے شبہات کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کیا اس مسودہ میں نئے ووٹرروں کو شامل کرنے کی اجازت ہے اور الیکشن کمیشن یہ کیسے یقینی بنائے گا کہ جمع کرائے گئے تمام فارموں کی رسید ووٹرروں کو فراہم کی جائے گی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ملک معتصم خان نے الیکشن کمیشن انہوں نے

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • پیٹرول پمپس اونرز ایسوسی ایشن کاکل کی ہڑتال مؤخر کرنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن