بینک ٹرانزیکشنز پر ٹیکس اور فیسوں میں بڑا اضافہ، نان فائلرز کے رقم نکالنے پر کتنا ٹیکس کٹے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
حکومتِ پاکستان کی جانب سے بینک ٹرانزیکشنز پر اضافی ٹیکس نافذ کیے جانے اور بینکوں کی طرف سے اپنی سروس فیسوں میں اضافہ کرنے کے بعد صارفین میں شدید تشویش اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تازہ مالیاتی اقدامات کے تحت نان فائلرز اب بینک سے رقم نکالنے پر 0.8 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس ادا کریں گے، جبکہ بینکوں نے بھی اے ٹی ایم کارڈ، ایس ایم ایس الرٹ سروس، اور دوسری بینکوں کے اے ٹی ایم کے استعمال پر چارجز بڑھا دیے ہیں۔ حیران کن طور پر، ان فیسوں میں فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا گیا۔
رپورٹس کے مطابق دوسری بینک کے اے ٹی ایم کے استعمال پر لی جانے والی فیس میں نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد 50 ہزار روپے نکالنے پر اب 80 روپے تک چارجز ادا کرنا ہوں گے۔ اے ٹی ایم کارڈ کی سالانہ فیس میں بھی 700 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے، جبکہ ایس ایم ایس الرٹ سروس کی فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 2000 روپے کر دی گئی ہے۔
مزید برآں، چیک کے ذریعے کی جانے والی نقد رقم کی نکاسی پر بھی اب ٹیکس عائد ہوگا، جس کے تحت نان فائلرز کو 20 ہزار روپے نکالنے پر 522 روپے تک ودہولڈنگ ٹیکس دینا پڑے گا۔
بینکوں نے رقم نکالنے کی حدیں بھی مقرر کر دی ہیں۔ عام ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز روزانہ 25 ہزار سے 50 ہزار روپے نکال سکتے ہیں، پریمیئم کارڈ ہولڈرز کے لیے حد 5 لاکھ روپے روزانہ ہے، جبکہ غیر ملکی ڈیبٹ کارڈ ہولڈرز 200 سے 500 امریکی ڈالر روزانہ نکال سکتے ہیں۔ تاہم 50 ہزار روپے سے زائد روزانہ نکالنے پر خودکار طور پر ٹیکس کٹوتی ہو جائے گی۔
بین الاقوامی اے ٹی ایم استعمال کرنے والوں سے اب یا تو فیصدی بنیادوں پر یا بینک کی مقرر کردہ فکسڈ فیس کے مطابق رقم وصول کی جائے گی۔
ٹیکس اور بینک فیسوں میں یکساں اضافے کے باعث بینک صارفین اور عملے کے درمیان تنازعات میں اضافہ ہو گیا ہے، جس کے بعد بینکوں نے ون لنک انتظامیہ سے فیسوں کے شیڈول پر نظرِ ثانی کی درخواست کی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بلند چارجز عوام کو بینکنگ نظام سے بدظن کر کے نقد معیشت کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نان فائلرز فیسوں میں نکالنے پر ہزار روپے اے ٹی ایم
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔