اسٹیٹ بینک کا شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
ویب ڈیسک اسٹیٹ بینک نے شرح سود 11 فیصد پر برقرار رکھنے کا اعلان کر دیا ہے، اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مسلسل چوتھی بار شرح سود برقرار رکھی ہے۔
اس سے قبل اسٹیٹ بینک نے رواں سال 5 مئی کو شرح سود ایک فیصد کم کرکے 11 فیصد کر دی تھی۔
اس سے قبل اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 17 اکتوبر 2025 تک مرکزی بینک کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 14 ملین ڈالر بڑھ کر 14.
بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟
اسٹیٹ بینک کے اعلامیے میں کہا گیا کہ ہفتہ ختم ہونے تک یعنی 17 اکتوبر تک مجموعی ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 19.85 ارب ڈالر رہے، جن میں سے 5.40 ارب ڈالر کمرشل بینکوں کے پاس موجود تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔