انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں کمی، روپے کی قدر میں مزید بہتری
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: مختلف معاشی عوامل کے باعث پیر کے روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ روپے کی پوزیشن مضبوط رہی۔
ماہرین کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے پاکستان کے لیے 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹس کا رول اوور اور 1 ارب ڈالر کی آئل فنانسنگ سہولت کی فراہمی نے مارکیٹ میں اعتماد کو مستحکم کیا۔
اس کے ساتھ ترسیلات زر میں اضافہ، زرمبادلہ کے بڑھتے ذخائر اور ستمبر میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے 11 کروڑ ڈالر کے سرپلس میں بدلنے جیسے عوامل نے روپے کی قدر کو سہارا دیا۔
کاروباری دورانیے کے دوران ڈالر ایک موقع پر 21 پیسے سستا ہو کر 280 روپے 80 پیسے تک پہنچ گیا، تاہم سپلائی میں بہتری سے درآمدی طلب میں اضافے کے باعث کاروبار کے اختتام پر ڈالر معمولی کمی کے ساتھ 281 روپے کی سطح پر بند ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 282 روپے 5 پیسے پر برقرار رہی۔
مارکیٹ ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف ایگزیکٹو بورڈ سے قسط کی منظوری کی توقعات، حقیقی موثر شرح مبادلہ (REER) میں بہتری اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں رقوم کی مسلسل آمد نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید تقویت دی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مارکیٹ میں روپے کی ڈالر کی کی قدر
پڑھیں:
فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘ کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔
فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔
گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔
رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔