بلوچستان: اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے ’’پیپلز مینارٹی کارڈ‘‘ کے اجراء کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
کوئٹہ(ڈیلی پاکستان آن لائن) بلوچستان میں اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی کے لئے "پیپلز مینارٹی کارڈ" کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کی جانب سے اقلیتوں سے متعلق مشاورتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں پارلیمانی سیکرٹری اقلیتی امور سنجے کمار، چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان، پرنسپل سیکرٹری سمیت متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران بلوچستان میں اقلیتوں کی سماجی و معاشی ترقی کیلئے "پیپلز مینارٹی کارڈ" کے اجراء کا فیصلہ کیا گیا، پروگرام کے مؤثر نفاذ کیلئے رواں مالی سال مینارٹی انڈومنٹ فنڈ کے لئے 50 کروڑ روپے مختص کر دیئے گئے۔
ایمازون کا اپنے 30 ہزار ملازمین کو فارغ کرنے کا فیصلہ
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال "مینارٹی انڈومنٹ فنڈ" کے تحت پروگرام کا بجٹ ایک ارب روپے تک بڑھایا جائے گا، پیپلز مینارٹی کارڈ کے ذریعے اقلیتوں کو صحت، تعلیم، روزگار اور کاروبار میں سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی بہبود حکومت بلوچستان کی اولین ترجیح ہے، پروگرام کے تحت اقلیتی برادری کے لئے معاونت کے منصوبے شروع کئے جائیں گے، مینارٹی انڈومنٹ فنڈ کے شفاف اور مؤثر استعمال کیلئے جدید ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام متعارف کرایا جائے گا، اقلیتی رہنماؤں کی مشاورت سے پروگرام کی تفصیلات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے پولیس نے چادر، چار دیواری کا تقدس پامال کیا: جسٹس محسن اختر
سرفراز بگٹی کا مزید کہنا تھا کہ پیپلز مینارٹی کارڈ بلوچستان میں سماجی مساوات اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا عملی مظہر ثابت ہوگا، بلوچستان میں اقلیتوں کی ترقی و خوشحالی سے صوبے کی مجموعی سماجی ہم آہنگی مزید مستحکم ہوگی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: پیپلز مینارٹی کارڈ بلوچستان میں اقلیتوں کی کا فیصلہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔