data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251028-01-15

 

اسلام آباد / مظفرآباد (نمائندہ جسارت/ مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے وزیراعظم چوہدری انوار الحق کے خلاف مشترکہ تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کرلیا۔ (ن) لیگ نے واضح کیا ہے کہ وہ آزاد کشمیر میں حکومت کا حصہ نہیں بنے گی بلکہ اپوزیشن میں بیٹھ کر اصلاحاتی کردار ادا کرے گی۔ایوان صدر اسلام آباد میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کی ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں رانا ثناء  اللہ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت پر اعتماد نہیں رہا۔ موجودہ حکومت عوامی امنگوں پر پورا نہیں اتری، اس لیے نئی پارلیمانی صف بندی ناگزیر ہے۔پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہا کہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے خود مسائل پیدا کر رہی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام قائم ہو، عوامی مسائل کا حل نکلے اور جمہوری عمل آگے بڑھے۔ ن لیگ کے رہنما احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ سیٹ اپ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہا ہے، اس لیے تحریک عدم اعتماد پر دونوں جماعتوں میں مکمل اتفاق ہوا ہے۔اس سے قبل ن لیگ کے وفد نے صدر آصف علی زرداری سے ایوان صدر میں ملاقات کی، جس میں آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال اور آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت کی گئی۔ ملاقات میں بلاول بھٹو زرداری، فریال تالپور، راجہ پرویز اشرف، قمر زمان کائرہ، نیئر بخاری اور دیگر رہنما شریک تھے۔ادھر وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے قانون ساز اسمبلی تحلیل نہ کرنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حسن ہے، میں نے ہمیشہ شفاف طرزِ حکمرانی کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ میں واحد وزیراعظم ہوں جس نے خزانہ بھرا، خالی نہیں کیا۔واضح رہے کہ وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد تیار کرلی گئی ہے جس پر مطلوبہ تعداد میں اراکین کے دستخط موجود ہیں۔ پیپلز پارٹی ذرائع کے مطابق تحریک کسی بھی وقت اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی جاسکتی ہے۔

نمائندہ جسارت.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: تحریک عدم اعتماد پیپلز پارٹی نے کہا کہ

پڑھیں:

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے

سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔

دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.

متعلقہ مضامین

  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی