نمبر گیم پوری ہے تو عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟ وزیراعظم آزاد کشمیر کا سوال
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوارالحق نے استفسار کیا ہے کہ اگر نمبر گیم پوری ہے تو تحریک عدم اعتماد کیوں نہیں لاتے؟
مظفر آباد میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں انوارالحق نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی جماعت نے نمبر گیم پوری کرلی ہے، تووہ عدم اعتماد کیوں نہیں لاتی؟
کیا پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) آزاد کشمیر میں ن لیگ کی حمایت کے بغیر حکومت سازی کی پوزیشن میں آگئی؟
انہوں نے کہا کہ جب تک اختیار ہے، اپنے فرائض سرانجام دیتا رہوں گا، جلد پریس کانفرنس کروں گا، جس میں تفصیلی بات ہو گی۔
وزیراعظم آزاد کشمیر نے مزید کہا کہ عدم اعتماد جمہوریت کا حسن ہے، میری قدر جانے کے بعد ہو گی، جس گھر میں جنم لیا اپنی خاطر اس کو آگ نہیں لگا سکتا۔
اُن کا کہنا تھا کہ میرے چہرے پر کوئی ندامت دکھائی نہیں دے گی، واحد وزیراعظم ہوں جس نے خزانہ بھرا، خالی نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔