کمبوڈیا میں مقیم پاکستانی شہری کا نام ملک سے واپس جانے پر بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد:
کمبوڈیا میں مقیم پاکستانی شہری کا نام پاکستان سے واپس جانے پر بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے رپورٹ طلب کر لی۔
ہائیکورٹ نے شہری عزیر بٹ کا نام بلیک لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیا۔ عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو 10 روز میں شہری کی درخواست پر فیصلہ کرنے کی ہدایت کر دی۔
اسلام ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین سومرو نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے وکیل عبد الرحمن بابر عدالت میں پیش ہوئے۔
عدالت نے ہدیت کی کہ شہری کی درخواست پر فیصلہ کرکے عمل درآمد رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو پیش کی جائے۔
وکیل درخواست گزار نے دلائل دیے کہ درخواست گزار اور اسکی فیملی کمبوڈیا میں رہائش پذیر ہیں، شہری پاکستان آیا جب واپس جانے لگا تو اسکا نام بلیک لسٹ میں ڈال دیا گیا، ہم نے متعلقہ فورم سے بھی رجوع کیا تاہم کوئی جواب نہ آیا۔
جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ہم متعلقہ حکام کو ہدایت جاری کر دیتے ہیں اور عمل درآمد رپورٹ منگوا لیتے ہیں۔
وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ متعلقہ حکام نہ کوئی جواب دیتے ہیں نہ کوئی عمل درآمد کرتے ہیں۔ جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ایسے کیسوں میں ہم نے اب تک جو جو ہدایات دیں ان پر عمل درآمد ہوا ہے۔
اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو روسٹرم پر طلب کیا گیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ اے جی صاحب انکی درخواست پر 10 روز میں فیصلہ کروا کر رپورٹ ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کو جمع کروائیں۔
عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 10 روز تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کی درخواست پر درخواست گزار عدالت نے بلیک لسٹ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔