سینیئر وکیل کے سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت میں پیش ہونے پر عدالت برہم
اشاعت کی تاریخ: 10th, December 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جائیداد کے تنازع سے متعلق کیس میں سینیئر وکیل کے سپریم کورٹ کے بجائے وفاقی آئینی عدالت میں پیش ہونے پر عدالت برہم ہوگئی۔
جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے محمد بلال بنام کلثوم انجم جائیداد تنازع کیس کی سماعت کی۔
معاون وکیل شکیل جاوید چوہدری نے کہا کہ سینیئر وکیل شاہ خاور اس وقت وفاقی آئینی عدالت میں ہیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ یہ سپریم کورٹ ہے، یہاں ایسا نہیں ہوتا۔
بعدازاں سماعت ملتوی کر دی گئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔