وزیراعظم آزاد کشمیر کا استعفیٰ دینے کیلئے مشاورت کا عمل مکمل
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
وزیر اعظم آزاد کشمیر انوارالحق
آزاد کشمیر میں وزیراعظم کو تبدیل کرنے کا آخری دور شروع ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم چوہدری انوارالحق نے استعفیٰ دینے کے لیے مشاورت کا عمل مکمل کرلیا۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ کیا ہے، کابینہ میں شامل وزرا نے پیپلز پارٹی کے نئے قائد ایوان کو ووٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر کے پاس اسمبلی تحلیل کرنے کا اختیار بھی موجود ہے، وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں صدر اسمبلی کا اجلاس طلب کریں گے۔
واضح رہے کہ آزاد کشمیر کے ریاستی آئین کے تحت وزیراعظم کے مستعفی ہونے کی صورت میں 14روز کے اندر نئے قائد ایوان کا انتخاب ضروری ہے۔ موجودہ اسمبلی چوتھے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لائے گی۔
یہ بھی پڑھیے آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی، ن لیگ کی کمیٹی آج صدر مملکت سے ملاقات کرے گی ہم کشمیر میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں: گورنر کے پی وزیرِ اعظم آزاد کشمیر کیخلاف تحریکِ عدم اعتماد کب جمع کرائی جائیگی؟وزیراعظم اپنا استعفیٰ صدر آزاد کشمیر کو بھجوائیں گے، اگر اسمبلی اِن سیشن ہو تو فوری طور پر نئے وزیراعظم کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا اور اگر اسمبلی اِن سیشن نہ ہو تو صدر 14 روز میں نئے وزیراعظم کے انتخاب کیلئے اجلاس بلانے کا پابند ہے۔
تحریک عدم اعتماد اسمبلی میں موجود کل اراکین کی تعداد کے 25 فیصد اراکین کے دستخطوں سے جمع کروائی جاسکتی ہے۔
تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والے محرک آئندہ وزیراعظم کا نام بھی پیش کرنے کے پابند ہوں گے، کوئی بھی رکن سیکریٹری اسمبلی کو قرار داد پیش کرنے کا نوٹس دے سکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: وزیراعظم کے کرنے کا
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔