آزاد جموں و کشمیر اسمبلی اسمبلی اب محض دکھاوا بن چکی ہے، سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے پاس آزاد جموں و کشمیر اسمبلی میں حقیقی اپوزیشن بنانے کا کوئی منصوبہ نہیں، دونوں جماعتیں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
ان کا بیان اُس وقت سامنے آیا ہے جب آزاد کشمیر میں سیاسی ہلچل پیدا ہوگئی ہے، جولائی 2021 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کامیاب پی ٹی آئی کے 10 ارکانِ اسمبلی نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ وہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔
پیپلز پارٹی وزیراعظم کے عہدے کے لیے کوشاں ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ نے حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
’دونوں میں گٹھ جوڑ ہے اور ان کی نیت اصل اپوزیشن بننے کی نہیں، یہ صرف باری باری اقتدار میں رہنا چاہتے ہیں۔‘
جمعیت علمائے اسلام (ف) قومی اسمبلی میں نئی اپوزیشن کی تشکیل میں پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی یا ن لیگ میں سے کسی کی حمایت کرے گی؟ اس سوال کو جواب دیتے ہوئے سلمان اکرم راجہ کا مؤقف تھا کہ ماضی کو دیکھتے ہوئے انہیں نہیں لگتا کہ وہ آخر میں پی ٹی آئی کے ساتھ ہوں گے۔
مزید پڑھیں:
’چاہے وہ پیپلز پارٹی سے اتحاد کریں یا ن لیگ سے، ہمیں اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی رائے میں یہ اسمبلیاں محض ایک دکھاوا بن چکی ہیں۔ عوام کا ان پر اعتماد ختم ہو چکا ہے، اس لیے اب ان میں جو بھی اپوزیشن بنے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
دوسری جانب، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے آج جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
مزید پڑھیں:
بلاول بھٹو کے ہمراہ نیئر بخاری، ہمایوں خان اور جمیل سومرو جبکہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولانا اسعد محمود شریک ہوئے۔
تازہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد پیپلز پارٹی کو اب 27 ارکان کی حمایت حاصل ہے، ن لیگ کے پاس 9، پی ٹی آئی کے 5 اور 2 علاقائی جماعتوں کے پاس ایک ایک نشست ہے۔
اس طرح آزاد جموں و کشمیراسمبلی میں وزیراعظم چوہدری انوارالحق کی سربراہی میں پی ٹی آئی کے منحرف گروپ کی تعداد کم ہو کر 10 ارکان رہ گئی ہے۔
مزید پڑھیں:
پیپلز پارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے وفاقی وزرا احسن اقبال اور رانا ثنااللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ آزاد کشمیر کی موجودہ حکومت مسائل حل کرنے کے بجائے بحران پیدا کرنے کا باعث بن چکی ہے۔
’اب اس بات پر اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی جائے گی جس میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ مل کر آگے بڑھیں گی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آزاد جموں و کشمیر اسمبلی احسن اقبال پی ٹی آئی پیپلز پارٹی جیو ٹی وی رانا ثنااللہ سلمان اکرم راجہ عدم اعتماد قمر زمان کائرہ کیپٹل ٹاک مسلم لیگ ن منحرف گروپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آزاد جموں و کشمیر اسمبلی احسن اقبال پی ٹی ا ئی پیپلز پارٹی جیو ٹی وی رانا ثنااللہ سلمان اکرم راجہ قمر زمان کائرہ کیپٹل ٹاک مسلم لیگ ن منحرف گروپ پیپلز پارٹی اور سلمان اکرم راجہ پی ٹی آئی کے میں پی ٹی
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔