شرجیل میمن کی سرکاری گاڑیوں کا ذاتی استعمال کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال یا غیر مجاز مقاصد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے، تمام گاڑیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے تاکہ نگرانی مؤثر اور شفاف بنائی جا سکے۔
سندھ کابینہ کی ذیلی کمیٹی برائے کفایت شعاری کا سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی صدارت اہم اجلاس ہوا۔
اجلاس میں صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ، وزیر برائے ایکسائز و ٹیکسیشن مکیش کمار چاولہ، وزیر برائے داخلہ، قانون و پارلیمانی امور ضیاء الحسن لنجار، وزیر برائے جیل خانہ جات و ورکس اینڈ سروسز علی حسن زرداری، متعلقہ محکموں کے سیکریٹریز اور اعلیٰ افسران شریک ہوئے۔
اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے سرکاری گاڑیوں (وہیکلز) کی الاٹمنٹ اور استعمال سے متعلق تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔
وزارتِ قانون، پارلیمانی امور، بلدیات، داخلہ، اطلاعات، اینٹی کرپشن، اور یونیورسٹیز اینڈ بورڈز کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری، ضرورت، اور مالی اثرات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کابینہ نے کفایت شعاری کے اصولوں کو اپنی پالیسی کا بنیادی حصہ بنایا ہے، سرکاری گاڑیوں کی خریداری، مرمت، اور استعمال کے تمام مراحل میں شفافیت یقینی بنائی جائے گی، جن محکموں کو گاڑیوں کی اشد ضرورت ہے، انہیں سہولت دی جائے گی، غیر ضروری اخراجات سے گریز ناگزیر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت کے مطابق تمام محکموں کو اپنے اخراجات میں کمی اور مالی نظم و ضبط پر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔
سینئر وزیر نے افسران کو ہدایت کی کہ ہر محکمے کی موجودہ گاڑیوں کی تعداد، حالت، اور ضرورت کے بارے میں مکمل رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ضرورت کی بنیاد پر فیصلے کئے جا سکیں، سرکاری گاڑیوں کے ذاتی استعمال یا غیر مجاز مقاصد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ تمام گاڑیوں کا ڈیجیٹل ریکارڈ تیار کیا جائے تاکہ نگرانی مؤثر اور شفاف بنائی جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شرجیل انعام میمن سرکاری گاڑیوں گاڑیوں کی
پڑھیں:
بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔
انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔
نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز