پاکستان میں مقیم غیر قانونی اور جعلی شناختی کارڈ بنوانے والےافغان باشندوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
ملک میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغان شہری نادرا کے نشانے پر آگئے۔ ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی گئی جس کے نتیجے میں ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف ہوا۔سافٹ ویئر نے فیملی ٹری کی کمپوزیشن دیکھ کر مشکوک افراد کی نشاندہی کی، جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد افغان باشندوں کی نکلی ۔ذرائع کے مطابق پشین، چمن اور کوئٹہ میں مقیم پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں افغان باشندوں کو شامل کیا گیا جبکہ ایجنٹوں نے بھاری رقوم لے کر غیر ملکیوں کو پاکستانی ریکارڈ میں شامل کرایا۔نادرا حکام نے بتایا کہ جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں کے کارڈ خودکار طریقے سے بلاک ہونا شروع ہوگئے ہیں۔بلاک شدہ شناختی کارڈ رکھنے والوں کو نادرا دفتر جاکر تصدیق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے ، مقررہ مدت کے بعد تصدیق نہ کرانے والے شناختی کارڈز کو منسوخ کردیا جائے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔