ویب ڈیسک  :ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف ہوا ہے۔

 ذرائع کا کہنا ہے کہ  ملک میں مقیم غیر قانونی افغان باشندوں کے خلاف گھیرا مزید تنگ کردیا گیا ہے۔ جعلی پاکستانی شناختی کارڈ رکھنے والے افغانی نادرا کے نشانے پر آگئے۔خصوصی سافٹ ویئر کے ذریعے مشکوک شناختی کارڈز کی نشاندہی کی گئی۔

ذرائع کے مطابق ڈھائی لاکھ سے زائد افراد کے جعلی پاکستانی شناختی کارڈ بنوانے کا انکشاف ہوا ہے۔سافٹ ویئر نے فیملی ٹری کی کمپوزیشن دیکھ کر مشکوک افراد کی نشاندہی کی۔

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کل سرکاری دورے پر برازیل روانہ ہوں گی

ذرائع کا کہنا ہے کہ جعلی شناختی کارڈ رکھنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد افغان باشندوں کی نکلی،پشین،چمن اور کوئٹہ میں مقیم پاکستانیوں کی فیملی ٹری میں افغانیوں کو شامل کیا گیا، شہریوں کی لاعلمی کی باعث بڑی تعداد میں غیرملکیوں کو فیملی ٹری میں ڈالا گیا، ایجنٹوں نے بھاری رقوم لے کر افغان باشندوں کو پاکستانی فیملی 7ٹری میں شامل کرایا۔

ذرائع کے مطابق افغان باشندوں کے جعلی شناختی کارڈ خودکار طریقے سے بلاک ہونا بھی شروع ہوگئے ہیں ،بلاک شدہ شناختی کارڈ رکھنے والوں کو نادرا دفتر جاکر تصدیق کرانے کی ہدایت کی گئی ہے،مقررہ مدت کے بعد تصدیق نہ کرانے والے شناختی کارڈز کو منسوخ کردیا جائے گا۔
 
 

پنجاب حکومت نے ٹرانسپورٹ اور جائیداد کی لیز پر عائد ٹیکس معطل کر دیا 

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: جعلی پاکستانی شناختی کارڈ افغان باشندوں کے جعلی

پڑھیں:

کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔

مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود