نادرا شناختی کارڈ میں اہم تبدیلی کےلئے قرارداد پنجاب اسمبلی میں منظور
اشاعت کی تاریخ: 4th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: نادرا کا تصدیق شدہ قومی شناختی کارڈ ہر پاکستانی کی ملک اور بیرون ملک پہچان ہے تاہم اب اس میں بڑی تبدیلی ہونے کا امکان ہے۔
نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ جاری کرتا ہے۔ تاہم اب اس شناختی دستاویز میں بڑی تبدیلی ہونے کا امکان ہے۔
پنجاب اسمبلی میں ایک قرارداد متفقہ رائے سے منظور کی گئی ہے، جس میں قومی شناختی کارڈ میں کارڈ حامل شخص کا خون کا گروپ درج کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رکن پنجاب اسمبلی احمد اقبال چوہدری نے یہ اہم قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ میں بلڈ گروپ کا اندراج حادثات اور ایمرجنسی کی صورت میں خون کی بروقت فراہمی سے عوام الناس کی زندگی بچانے کا بڑا ضامن ہو سکتا ہے۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ سنگین حادثات یا ناگہانی آفات کی صورت میں بلڈ گروپ معلوم نہ ہونے سے اسپتالوں اور بلڈ بینکوں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔ اگر قومی شناختی کارڈ میں بلڈ گروپ کا اندراج کر دیا جائے تو مریضوں کو بروقت مطلوبہ خون فراہم کر کے ان کی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: قومی شناختی کارڈ شناختی کارڈ میں
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔