ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کی بات درست نہیں، پاکستان نے بھارتی پروپیگنڈا مسترد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 6th, November 2025 GMT
ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان پر ہندو برادری کے افراد کو داخلے سے روکنے کے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، جنہیں مکمل طور پر مسترد کیا جاتا ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق یہ الزامات حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور ایک معمول کے انتظامی معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش ہیں۔
مزید پڑھیں: بابا گورونانک کے جنم دن کی تقریبات کا آغاز، سکھ یاتریوں کی آمد کا سلسلہ جاری
ترجمان نے بتایا کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن نے بابا گورو نانک دیو جی کی سالگرہ کی تقریبات (4 تا 13 نومبر 2025) میں شرکت کے لیے 2400 سے زیادہ سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کیے۔
????PR No.
Statement by the Spokesperson
????⬇️https://t.co/dFfKmpgsGn pic.twitter.com/UoljDWCjuA
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) November 6, 2025
ترجمان نے مزید بتایا کہ 4 نومبر کو ایک ہزار 932 یاتری اٹاری واہگہ بارڈر کے راستے کامیابی سے پاکستان میں داخل ہوئے، تاہم تقریباً 300 ویزا ہولڈرز کو بھارتی حکام نے سرحد عبور کرنے سے روک دیا۔
طاہر حسین اندرابی کے مطابق پاکستانی امیگریشن کا تمام عمل منظم، پُرامن اور شفاف طریقے سے مکمل کیا گیا۔ چند افراد کے دستاویزات نامکمل تھے اور وہ امیگریشن حکام کے سوالات کے تسلی بخش جوابات دینے میں ناکام رہے، جس پر انہیں طے شدہ ضابطوں کے مطابق واپس بھیج دیا گیا۔
انہوں نے واضح کیاکہ ان افراد کو مذہبی بنیادوں پر داخلے سے روکنے کا دعویٰ سراسر غلط اور اشتعال انگیز ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے کہاکہ پاکستان ہمیشہ تمام مذاہب کے زائرین کا خیر مقدم کرتا ہے اور انہیں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے سہولت فراہم کرتا ہے۔
مزید پڑھیں: بابا گورونانک کا 556ویں جنم دن، ننکانہ صاحب کے تعلیمی اداروں میں 3 روزہ تعطیل
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کارروائی انتظامی نوعیت کی تھی، اسے فرقہ وارانہ یا سیاسی رنگ دینا افسوسناک اور بھارتی حکومت و میڈیا کے بڑھتے ہوئے تعصب کا مظہر ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بابا گورونانک پاکستان ترجمان دفتر خارجہ جنم دن تقریبات ہندو برادری وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بابا گورونانک پاکستان ترجمان دفتر خارجہ جنم دن تقریبات وی نیوز
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔