data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک تقریباً 80 ہزار نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کر دیے ہیں، یہ فیصلہ ٹرمپ حکومت کی سخت امیگریشن پالیسی کے تسلسل کے طور پر سامنے آیا ہے، جس کے تحت متعدد غیر ملکی طلبا، ورک ویزا ہولڈرز اور گرین کارڈ رکھنے والے افراد کو بھی امریکا بدر کیا جا چکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر اہلکار کے مطابق منسوخ کیے گئے ویزوں میں سے ہزاروں کیسز ڈرائیونگ انڈر دی انفلوئنس (نشے میں گاڑی چلانے)، چوری، اور حملے جیسے جرائم سے متعلق ہیں جبکہ کچھ ویزے سوشل میڈیا پوسٹس اور سیاسی نظریات کی بنیاد پر بھی منسوخ کیے گئے۔

اہلکار کے مطابق 16 ہزار ویزے شراب کے نشے میں ڈرائیونگ کے واقعات میں، 12 ہزار حملے کے کیسز میں اور 8 ہزار چوری کے الزامات پر منسوخ کیے گئے، جو مجموعی منسوخیوں کا تقریباً نصف حصہ بنتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ نے رواں سال اگست میں تصدیق کی تھی کہ 6 ہزار سے زائد اسٹوڈنٹ ویزے قوانین کی خلاف ورزی اور قیام کی مدت سے زیادہ رہنے پر منسوخ کیے گئے، کچھ کیسز میں ان پر دہشت گردی یا انتہا پسندی کی حمایت جیسے الزامات بھی عائد کیے گئے۔

علاوہ ازیں، سوشل میڈیا پر سیاسی بیانات، خصوصاً اسرائیل پر تنقید یا فلسطین کی حمایت سے متعلق پوسٹس پر بھی متعدد افراد کے ویزے منسوخ کیے گئے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اس سلسلے میں کہا کہ ہم نے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں ویزے منسوخ کیے، کیونکہ یہ افراد امریکی خارجہ پالیسی کے برخلاف سرگرمیوں میں ملوث پائے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں فلسطینیوں کی حمایت کرنے یا اسرائیل پر تنقید کرنے والے طلبا اور گرین کارڈ ہولڈرز کو  غیر دوستانہ ا  حماس نواز  سمجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: منسوخ کیے گئے ویزے منسوخ

پڑھیں:

اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار

مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور