Jasarat News:
2026-07-24@03:55:40 GMT

غزہ جنگ بندی کا مستقبل!

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-03-3

 

مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن فارمولے کے تحت ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ ہنوز نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا، جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل حملے جاری ہیں، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک کم از کم 242 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 622 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر حملوں میں بھی خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔ قابض اسرائیلی سیکورٹی اداروں کے مطابق اکتوبر کے آخر تک صہیونی آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر 704 نسلی بنیادوں پر مبنی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں آبادکاروں کے حملوں کی تعداد 2006ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صرف ایک ماہ میں 264 حملے ریکارڈ کیے گئے جو روزانہ اوسطاً آٹھ حملوں سے زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک 1485 حملے درج کیے گئے ہیں۔ غزہ پر مسلط جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں 986 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت قابض اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران شہید ہوئی۔ جب کہ 3481 فلسطینی مختلف علاقوں میں فوجی چھاپوں، فائرنگ اور جھڑپوں میں زخمی ہوئے۔ پیش آمدہ صورتحال میں غزہ آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے ایک طرف اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور تباہ شدہ علاقوں کی بحالی کا سوال ہے تو دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر ایک نئی فورس کی تعیناتی کا فارمولا زیر ِ بحث ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فورس کس کی ہوگی؟۔ اطلاعات ہیں کہ امریکا نے غزہ سیز فائر ہیڈکوارٹر میں اسرائیل کو فیصلہ سازی سے باہر کر دیا، ان میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو ثانوی حیثیت دیدی، تمام اہم فیصلے خود کر رہا ہے، ٹرمپ کا منصوبہ ہے کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) غزہ کا انتظام سنبھالے گی جس کی تعداد بیس ہزار ہوگی جنہیں دوسالہ مینڈیٹ دیا جائے گا، جس کے بعد اسرائیلی افواج وہاں سے انخلا کریں گی۔ تاہم واشنگٹن اپنی افواج نہیں بھیجے گا، آئی ایس ایف میں شرکت کے لیے ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور آذربائیجان سے بات چیت ہو رہی ہے۔ اسرائیل نے ترکیے کی افواج کی ممکنہ شمولیت پر اعتراض کیا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم کی ترجمان سوش بیڈروسیئن کا کہنا ہے کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں ترکیے کے فوجی دستوں کے شامل کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم آفس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ غزہ کی زمین پر کسی ترک فوجی کا پاؤں نہیں لگے گا، جبکہ عرب ممالک حماس سے براہ راست تصادم کے خدشے کے باعث محتاط ہیں۔ اس دوران امریکا نے اپنے امن منصوبے کو اقوام متحدہ کی قرارداد میں مکمل طور پر شامل کر لیا ہے، جس کے تحت مستقبل میں غزہ کا انتظام بورڈ آف پیس سے فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی غیر ملکی فورس صرف اقوام متحدہ کی قرارداد پر آئے گی، جس کے اختیارات محدود ہوں گے اور فلسطینی سیکورٹی اداروں کے ساتھ اس کی مکمل ہم آہنگی لازمی ہوگی، فلسطینی اتھارٹی کو خدشہ ہے کہ یہ فورس فلسطینی کردار کو نظر انداز کرے گی تو غزہ کو مغربی کنارے سے ہمیشہ کے لیے الگ کر دے گی۔ ادھر حماس نے رفح کی سرنگوں میں پھنسے اپنے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے پیشکش کی تھی کہ حماس اپنے ہتھیار قومی سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دے تاکہ غیر ملکی فوج آنے کی نوبت نہ آئے۔ حماس نے ہتھیاروں کو ’’مقدس‘‘ قرار دیتے ہوئے انکار کر دیا اور کہا کہ ہتھیار صرف فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ہی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ غزہ میں فورسز کی تعیناتی کے حوالے سے حماس کا موقف یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی امن فورسز کی تعیناتی کو قبول کرے گی، جو صرف جنگ بندی کی نگرانی اور غزہ کی تعمیر نوکے لیے کام کرے، لیکن اسے کسی بھی طرح کی غیر ملکی مداخلت، کنٹرول یا اسرائیلی فوج کا متبادل نہیں سمجھاجائے گا۔ حماس کے سینئر اہلکار موسیٰ ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ اگر یہ امن فورس نہیں بلکہ سیکورٹی فورس ہے تو یہ اسرائیلی فوج کا متبادل بن جائے گی، جو ٹرمپ کی تجویز کا حصہ نہیں تھی۔ کہا جارہا ہے کہ غزہ کا مستقبل تین بڑے سوالات پر منحصر ہے، کیا حماس ہتھیار چھوڑے گی؟، کیا بین الاقوامی فورس فلسطینی خودمختاری کی دشمن بنے گی؟ کیا عرب ممالک فلسطینی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکیں گے؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے فلسطینی عوام کو بے یقینی کی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ مذکورہ بالا صورتحال موہوم خدشات کا باعث بن رہے ہیں۔ صورتحال جو بھی ہو حماس نے جرأت مندانہ موقف اختیارکرکے نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ امت مسلمہ کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی ہے، ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکمران بالخصوص غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے والے مسلم ممالک صورتحال کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیں، اور امریکا و اسرائیل کی کسی بھی درپردہ سازشوں کا حصہ نہ بنیں اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لیں۔

 

گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی اتھارٹی اقوام متحدہ کی اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کے مطابق کہ غزہ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف