Jasarat News:
2026-06-03@03:33:44 GMT

غزہ جنگ بندی کا مستقبل!

اشاعت کی تاریخ: 12th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251112-03-3

 

مصر کے شہر شرم الشیخ میں غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کے سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن فارمولے کے تحت ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ ہنوز نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوا، جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل حملے جاری ہیں، فلسطینی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی کے بعد اب تک کم از کم 242 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ 622 زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینی شہریوں پر حملوں میں بھی خطرناک اضافہ ہوگیا ہے۔ قابض اسرائیلی سیکورٹی اداروں کے مطابق اکتوبر کے آخر تک صہیونی آبادکاروں کے ہاتھوں فلسطینیوں پر 704 نسلی بنیادوں پر مبنی حملے ریکارڈ کیے گئے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں آبادکاروں کے حملوں کی تعداد 2006ء کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ صرف ایک ماہ میں 264 حملے ریکارڈ کیے گئے جو روزانہ اوسطاً آٹھ حملوں سے زیادہ ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق رواں سال اب تک 1485 حملے درج کیے گئے ہیں۔ غزہ پر مسلط جنگ کے آغاز سے اب تک مغربی کنارے میں 986 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جن میں اکثریت قابض اسرائیلی فوج کی کارروائیوں کے دوران شہید ہوئی۔ جب کہ 3481 فلسطینی مختلف علاقوں میں فوجی چھاپوں، فائرنگ اور جھڑپوں میں زخمی ہوئے۔ پیش آمدہ صورتحال میں غزہ آج ایک نازک موڑ پر کھڑا ہے ایک طرف اسرائیلی فوج کا مکمل انخلا اور تباہ شدہ علاقوں کی بحالی کا سوال ہے تو دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر ایک نئی فورس کی تعیناتی کا فارمولا زیر ِ بحث ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ فورس کس کی ہوگی؟۔ اطلاعات ہیں کہ امریکا نے غزہ سیز فائر ہیڈکوارٹر میں اسرائیل کو فیصلہ سازی سے باہر کر دیا، ان میں اختلافات شدت اختیار کر گئے، اسرائیلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ امریکا نے اسرائیل کو ثانوی حیثیت دیدی، تمام اہم فیصلے خود کر رہا ہے، ٹرمپ کا منصوبہ ہے کہ انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس (ISF) غزہ کا انتظام سنبھالے گی جس کی تعداد بیس ہزار ہوگی جنہیں دوسالہ مینڈیٹ دیا جائے گا، جس کے بعد اسرائیلی افواج وہاں سے انخلا کریں گی۔ تاہم واشنگٹن اپنی افواج نہیں بھیجے گا، آئی ایس ایف میں شرکت کے لیے ترکی، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا اور آذربائیجان سے بات چیت ہو رہی ہے۔ اسرائیل نے ترکیے کی افواج کی ممکنہ شمولیت پر اعتراض کیا ہے، اسرائیلی وزیر اعظم کی ترجمان سوش بیڈروسیئن کا کہنا ہے کہ غزہ میں تعینات کی جانے والی بین الاقوامی فورس میں ترکیے کے فوجی دستوں کے شامل کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ صحافیوں سے گفتگو میں اسرائیلی وزیراعظم آفس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ غزہ کی زمین پر کسی ترک فوجی کا پاؤں نہیں لگے گا، جبکہ عرب ممالک حماس سے براہ راست تصادم کے خدشے کے باعث محتاط ہیں۔ اس دوران امریکا نے اپنے امن منصوبے کو اقوام متحدہ کی قرارداد میں مکمل طور پر شامل کر لیا ہے، جس کے تحت مستقبل میں غزہ کا انتظام بورڈ آف پیس سے فلسطینی اتھارٹی کو منتقل کیا جائے گا۔ فلسطینی اتھارٹی کے نائب صدر حسین الشیخ کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی غیر ملکی فورس صرف اقوام متحدہ کی قرارداد پر آئے گی، جس کے اختیارات محدود ہوں گے اور فلسطینی سیکورٹی اداروں کے ساتھ اس کی مکمل ہم آہنگی لازمی ہوگی، فلسطینی اتھارٹی کو خدشہ ہے کہ یہ فورس فلسطینی کردار کو نظر انداز کرے گی تو غزہ کو مغربی کنارے سے ہمیشہ کے لیے الگ کر دے گی۔ ادھر حماس نے رفح کی سرنگوں میں پھنسے اپنے جنگجوؤں کے ہتھیار ڈالنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے پیشکش کی تھی کہ حماس اپنے ہتھیار قومی سیکورٹی فورسز کے حوالے کر دے تاکہ غیر ملکی فوج آنے کی نوبت نہ آئے۔ حماس نے ہتھیاروں کو ’’مقدس‘‘ قرار دیتے ہوئے انکار کر دیا اور کہا کہ ہتھیار صرف فلسطینی ریاست کے قیام کے بعد ہی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ غزہ میں فورسز کی تعیناتی کے حوالے سے حماس کا موقف یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی امن فورسز کی تعیناتی کو قبول کرے گی، جو صرف جنگ بندی کی نگرانی اور غزہ کی تعمیر نوکے لیے کام کرے، لیکن اسے کسی بھی طرح کی غیر ملکی مداخلت، کنٹرول یا اسرائیلی فوج کا متبادل نہیں سمجھاجائے گا۔ حماس کے سینئر اہلکار موسیٰ ابو مرزوق کا کہنا ہے کہ اگر یہ امن فورس نہیں بلکہ سیکورٹی فورس ہے تو یہ اسرائیلی فوج کا متبادل بن جائے گی، جو ٹرمپ کی تجویز کا حصہ نہیں تھی۔ کہا جارہا ہے کہ غزہ کا مستقبل تین بڑے سوالات پر منحصر ہے، کیا حماس ہتھیار چھوڑے گی؟، کیا بین الاقوامی فورس فلسطینی خودمختاری کی دشمن بنے گی؟ کیا عرب ممالک فلسطینی دھڑوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکیں گے؟۔ یہ وہ سوالات ہیں جنہوں نے فلسطینی عوام کو بے یقینی کی صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ مذکورہ بالا صورتحال موہوم خدشات کا باعث بن رہے ہیں۔ صورتحال جو بھی ہو حماس نے جرأت مندانہ موقف اختیارکرکے نہ صرف فلسطینی عوام بلکہ امت مسلمہ کے احساسات و جذبات کی ترجمانی کی ہے، ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم حکمران بالخصوص غزہ میں جنگ بندی کے لیے ثالث کا کردار ادا کرنے والے مسلم ممالک صورتحال کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیں، اور امریکا و اسرائیل کی کسی بھی درپردہ سازشوں کا حصہ نہ بنیں اور اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کا سختی سے نوٹس لیں۔

 

گوہر ایوب.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: فلسطینی اتھارٹی اقوام متحدہ کی اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ کے مطابق کہ غزہ کے لیے کے بعد

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان